تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 671 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 671

تاریخ احمدیت۔جلد 22 671 سال 1964ء ☆ 105 صورت تھی۔انہوں نے مغربی پاکستان میں ربوہ کے کالج جامعتہ المبشرین میں ۱۹۵۴ء سے ۱۹۵۶ء تک تعلیم حاصل کی اور الہیات، عربی اور اردو زبان کی ڈگری حاصل کی۔۱۹۵۹ء میں وہ نیشنل اسمبلی کے لئے لگو ما کے حلقہ سے منتخب ہوئے۔آپ دار السلام کے سب سے پہلے افریقن میئر تھے۔اس منصب پر دو سال تک بڑی کامیابی و کامرانی کے ساتھ فائز رہے۔حتی کہ مغربی صوبہ کے کمشنر مقرر کئے گئے۔۱۹۶۰-۱۹۶۱ء میں ٹانگانیکا افریقن نیشنل یونین کی طرف سے آل افریقن پیپلز کا نفرنس تیونس اور پھر قاہرہ میں نمائندگی کی۔دار السلام کا میئر ہونے کی حیثیت سے امریکہ کا دورہ کیا۔اور اس دورہ سے فارغ ہو کر برٹش گورنمنٹ کی دعوت پر انگلینڈ کا دورہ کیا۔۱۹۶۳ء میں آپ وزیر انصاف مقرر کئے گئے۔اور جب زنجبار اور ٹانگانیکا کا باہمی الحاق ہوا تو آپ کے سپر د وزارت ثقافت و تعمیر نو کا قلمدان کیا گیا۔آپ کے پسماندگان میں چھ بچے اور ایک بیوہ ہے۔روز نامہ ٹانگانیکا سٹینڈرڈ ( دار السلام) نے مورخہ ۱۶ را کتوبر ۱۹۶۴ء کی اشاعت میں شیخ عمری عبیدی صاحب کی نعش کو ایک خاص طیارہ کے ذریعہ جرمنی سے لانے اور تدفین وغیرہ کے پروگرام کے متعلق حسب ذیل نوٹ شائع کیا:۔" مرحوم شیخ عمری عبیدی وزیر قومی ثقافت و تعمیر نو جو گذشتہ جمعہ کی شام کو جرمنی میں وفات پاگئے تھے ان کی نعش ایک خاص طیارہ میں کل دار السلام پہنچائی گئی۔سینکڑوں لوگ اور حکومت کے سرکردہ اصحاب ہوائی اڈہ پر موجود تھے ان میں حکومت ٹانگا نیکا کے نائب صدر مسٹر رشیدی کواوا، جملہ وزراء کا بینہ اور شیخ مرحوم کے اقرباء اور احباب، مغربی جرمنی کے سفیر، دارالسلام شہر کے میئر ، مذہبی رہنما اور شیوخ وعلماء اور مختلف تنظیموں اور سوسائٹیوں کے نمائندے اور دیگر سرکاری عہدے دار بھی ہوائی اڈہ پر موجود تھے۔جونہی ہوائی جہاز پہنچا شیخ عمری عبیدی کی نعش جو ایک سیاہ رنگ کے ملبوس تابوت میں تھی اور جس پر ملکی جھنڈے کی علامات تھیں کو جہاز سے اتار کر ان کے گھر پہنچایا گیا۔کہ اسی اخبار نے کے اراکتو بر ۱۹۶۴ء کو تدفین کی مکمل رپورٹ شائع کی اور قوم شیخ عمری عبیدی کے غم میں سوگوار ہے (NATION MOURNS SHEIKH ABEDI) کے زیر ☆ عنوان لکھا:۔66 پریذیڈنٹ نیریرے کی سرکردگی میں شیخ عمری عبیدی وزیر ثقافت و تعمیر نو کے جنازہ میں (جو گذشتہ جمعہ کے روز وفات پاگئے تھے ) پندرہ ہزار سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔تدفین کے موقع پر