تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 668
تاریخ احمدیت۔جلد 22 668 سال 1964ء (ترجمه) شیخ عبیدی کی وفات عظیم قومی نقصان ہے کمیونٹی ڈویلپمنٹ اور نیشنل کلچر کے وزیر شیخ عمری عبیدی کی وفات جو جرمنی میں واقعہ ہوئی ،ایک عظیم قومی نقصان ہے۔اسی نقصانِ عظیم کا اعلان کرتے ہوئے جمہوریہ متحدہ ٹانگانیکا اور زنجبار کے صدر موالیمو جولیس۔کے۔ٹیر میرے نے اس بارہ میں کہا گہرے ذاتی رنج و غم کے ساتھ میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ شیخ عمری عبیدی ۱۷۹ اکتوبر کو جرمنی میں وفات پاگئے۔یہ ان سب کا ذاتی نقصان ہے جو عرصہ دراز سے مرحوم کے دوست تھے۔یہ ہمارا قومی نقصان ہے۔“ موالیمو جیولیس نیر یرے نے مزید کہا ” شیخ عمری عبیدی کی نانو (TANU تنزانیہ کی حکمران پارٹی ، پھر دار السلام شہر اور حکومت کیلئے خدمات ہماری قومی ترقی کیلئے ایک عظیم سرمایہ ثابت ہوئی ہیں۔مزید برآں مرحوم کے ذریعہ ہماری قومی زبان سواحیلی کی ترویج و ترقی کی بناء پر سواحیلی زبان آپ کی یاد کو ہماری قومی تاریخ میں ہمیشہ زندہ و تابندہ رکھے گی۔دو ماه قبل مرحوم وزیر اعصابی تکلیف کے علاج کی غرض سے بون (مغربی جرمنی ) گئے۔روانگی کے وقت آپ اس حد تک کمزور تھے کہ بڑی مشکل سے ہی بول سکتے یا کھانا کھا سکتے تھے۔لمبے علاج کے بعد آپ کسی قدر رو بصحت ہوئے جس کے دوران ڈاکٹروں نے آپ کی علالت کی وجہ معلوم کرنے کی بیحد کوشش کی۔وفات سے تین روز قبل آپ کی حالت نازک ہوگئی یہاں تک کہ آپ بول بھی نہیں سکتے تھے۔چنانچہ آپ لکھ کر ڈاکٹروں سے مخاطب ہوتے۔شیخ عبیدی ۱۹۲۴ء میں کیسگا ماریجن کے مقام اُجیجی میں پیدا ہوئے اور آپ نے ٹیبو را ہائی سکول میں تعلیم حاصل کی۔بعد ازاں آپ پوٹل ٹریننگ سکول دارالسلام میں ۱۹۴۱ء میں داخل ہو گئے اور ساتھ ہی تبلیغی تعلیم و تربیت میں مصروف ہو گئے۔۱۹۵۰ء میں آپ ٹا نگانیکا افریقن ایسوسی ایشن کے صدر تھے جو ٹانو (TANU) کی پیشر تھی۔آپ نے ربوہ کالج (جامعتہ المبشرین۔ربوہ ) میں ۱۹۵۴ء سے ۱۹۵۶ء تک حصول تعلیم کے بعد دینیات، عربی اور اردو میں ڈگری حاصل کی۔