تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 659
تاریخ احمدیت۔جلد 22 659 سال 1964ء حقیقت یہ ہے کہ عملی طور پر صرف مولوی محمد یعقوب صاحب ہی اس وقت کام کر رہے ہیں۔جن کو خدا تعالیٰ نے قدرتی طور پر زود نویسی کا ملکہ عطا کیا ہوا ہے اور جو اکثر خطبات اور ڈائریاں وغیرہ نہایت صحیح لکھتے ہیں۔ان کے لکھے ہوئے مضمون کے متعلق میرا ذہن یہ تو تسلیم کر سکتا تھا کہ کسی بات کے بیان کرنے میں مجھ سے غلطی ہوگئی ہے مگر میرا ذہن یہ تسلیم نہیں کر سکتا تھا کہ انہوں نے کسی بات کو غلط طور پر تحریر کیا 100-4 قبل ازیں حضور نے فرمایا:۔” خطبہ لکھنا کوئی معمولی کام نہیں۔بلکہ اس شخص پر جو خطبہ لکھ رہا ہو بہت بڑا بوجھ ہوتا ہے۔گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ خطبہ ہوتا ہے۔اور جب اتنا لمبا خطبہ پڑھا جاتا ہے تو اس شخص کی حالت بہت ہی قابل رحم ہوتی ہے جو اس وقت خطبہ لکھ رہا ہوتا ہے۔وجہ یہ کہ بولنے میں انسان کافی تیز ہوتا ہے مگر لکھنے میں اتنی تیزی نہیں ہوسکتی۔پھر مزید دقت یہ ہے کہ اردو کا کوئی شارٹ ہینڈ نہیں۔اس وجہ سے خطبہ نویس کو لفظاً لفظاً خطبہ لکھنا پڑتا ہے۔اور اس پر اس کی اس قدر محنت اور طاقت خرچ ہوتی ہے کہ خطبہ لکھنے کے بعد بجائے اس کے کہ لوگ اس پر اعتراض کریں وہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ لوگ اس کی انگلیاں دبائیں۔پھر اس کے بعد وہ خطبہ ۲۴ گھنٹہ کی اور محنت چاہتا ہے کیونکہ وہ خطبہ جو گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ میں دیا جاتا ہے چوبیس گھنٹوں کی محنت کے بعد صاف ہوتا ہے۔اس کے بعد وہ میرے پاس درستی کے لئے آتا ہے اور میں اس پر دو گھنٹے سے لے کر چھ گھنٹے تک وقت صرف کرتا ہوں۔اس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس غریب کا کیا حال ہوتا ہو گا۔جو تقریر خطبہ کے ساتھ ساتھ الفاظ لکھتا چلا جاتا ہے۔اور پھر بعد میں ایک خاصی محنت کر کے اسے صاف کرتا ہے۔بعض دفعہ ساٹھ ساٹھ صفحوں کا خطبہ بھی ہوتا ہے اور یہ تمام خطبہ وہ پنسل کے ساتھ جلدی جلدی لکھتا ہے۔اب ایک طرف پنسل کا لکھا ہوا ہوتا ہے۔دوسری طرف جلدی میں لکھا ہوا ہوتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کئی جگہ اپنے لکھے ہوئے الفاظ اس سے پڑھے نہیں جاتے۔اور اسے سوچنا پڑتا ہے کہ یہ کیا لفظ ہے۔پھر مضمون کے تسلسل اور ربط کے لحاظ سے جو لفظ زیادہ صحیح معلوم ہو وہ اسے لکھنا پڑتا ہے۔میرے