تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 657 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 657

تاریخ احمدیت۔جلد 22 657 سال 1964ء کے ساتھ پیش آئیں۔ایک مرتبہ حضرت میر صاحب رہتک میں سول سرجن تھے تو میں ان کے پاس گیا۔مگر نہ اس سے پہلے میں کبھی رہتک گیا تھا اور نہ میں نے اپنے آنے کی اطلاع حضرت میر صاحب کو دی تھی خیر اسٹیشن رہتک پر اتر کر میں نے ایک ٹانگہ والے سے کہا کہ ” مجھے سول سرجن کی کوٹھی پر لے چل رات کا وقت تھا کوئی دس بجے ہوں گے خیر ٹانگے والا کوٹھی پر لے آیا۔اور میں نے اسے پیسے دے کر رخصت کر دیا۔کوٹھی کے باہر کا دروازہ بند تھا۔میں نے چوکیدار کو آواز دی۔وہ سو گیا تھا۔آنکھیں ملتا ہوا آیا۔اور پوچھنے لگا کہ تم کون ہو اور کیوں آئے ہو؟ میں نے کہا دروازہ کا قفل کھول۔پوچھنے لگا تم کس کے پاس آئے ہو؟ میں نے کہا سول سرجن کے پاس‘۔چوکیدار نے کہا ”سول سرجن تو رخصت پر قادیان گئے ہوئے ہیں۔میں نے کہا بیگم صاحبہ تو ہوں گی۔کہنے لگا مگر وہ تو سو گئی ہیں۔میں یہ سن کر بڑا پریشان ہوا اور سوچنے لگا کہ اس اجنبی شہر میں رات کہاں گزاروں اور کہاں جاؤں۔اور کوئی چارہ کار نہ دیکھ کر میں نے چوکیدار سے کہا کہ جا کر بیگم صاحبہ کو جگا اور ان سے کہہ کہ محمد اسمعیل پانی پت سے آیا ہے۔چوکیدار نے جا کر حضرت ممانی جان کو جگایا۔حضرت ممانی جان فوراً اٹھ بیٹھیں۔اور چوکیدار سے فرمایا ” پہلے جلدی سے ان کو کمرہ میں بٹھا اور فور اواپس آ۔پھر آپ نے چوکیدار کے ہاتھ پانی کا لوٹا، صابن اور تولیہ بھیجا کہ میں ہاتھ منہ دھو کر تازہ دم ہو جاؤں۔اور اس کے بعد چوکیدار نے میرے لئے بستر بھی لا کر پلنگ پر بچھا دیا۔مجھے یہ دیکھ کر بے انتہا حیرت ہوئی۔اتنے میں میں نے اطمینان سے وضو کیا۔تولیے سے ہاتھ منہ پونچھا اور نماز عشاء کے لئے کھڑا ہونا ہی تھا کہ حضرت ممانی جان نے میرے لئے چوکیدار کے ہاتھ کھانا بھیج دیا۔انڈے تلے ہوئے تھے اور گرم گرم روٹیاں تھیں۔آج تک میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ اتنی تھوڑی دیر میں حضرت ممانی جان نے یہ کھانا کس طرح تیار کر کے بھیج دیا۔رات میں بڑے آرام سے سویا۔صبح سویرے میرے لئے نہایت پر تکلف ناشتہ آ گیا اور ممانی جان نے کہلا بھیجا کہ میر صاحب ایک ہفتہ بعد واپس آئیں گے آپ یہیں ٹھہریں۔جب وہ آجائیں تو پھر ان سے مل کر جائے گا۔مگر حضرت میر صاحب کی غیر موجودگی میں وہاں میں ایک ہفتہ ٹھہر کر کیا کرتا۔اسی دن حضرت ممانی جان سے معذرت کر کے واپس چلا آیا۔افسوس ایسی شفقت اور ایسی مہمان داری کے نمونے اب کہاں ملتے ہیں۔نہ معلوم حضرت ممانی جان کتنی بھلائیاں اور خوبیاں اپنے ساتھ لے گئیں۔