تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 654
تاریخ احمدیت۔جلد 22 654 سال 1964ء وسطی ربوہ میں حضرت فضل عمر ( اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ سے راضی رہے ) کے عطا کردہ پلاٹ پر جو مکان بنوایا ہے اس کے ایک حصہ میں خدا کا گھر بنوا دوں اور مکان کے کرایہ سے مسجد کا خرچ نکلتا رہے۔وفات سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے اپنا مکان وقف کرنے اور اس کے ایک حصہ میں مسجد بنوانے کی خواہش ظاہر کی۔صدر انجمن احمدیہ نے اسے منظور کر لیا۔پہلے ایک کچا کمرہ بنوایا گیا۔جب اسے پختہ کرنے کا موقعہ آیا تو آپ کی خواہش کا علم ہونے پر حضرت سیدہ ام متین صاحبہ صدر لجنہ نے ۱۹۶۹ء میں حضرت امام جماعت الثالث کے ارشاد پر اس کی بنیاد رکھی۔یہ چھوٹی سی سادہ مگر پُر وقار مسجد ریلوے اسٹیشن کے بالکل قریب ہر آنے جانے والے کو یہ یاد دلاتی ہے کہ ایک فنا فی اللہ خاتون اپنے زیورات کا استعمال اس طرح بھی کر سکتی ہے کہ زمین پر خدا کا گھر تعمیر کروا کے ثواب دارین حاصل کرے۔لجنہ کراچی کو آپ کی خدمات لمبے عرصے تک حاصل رہیں۔حلقہ سعید منزل (جس میں اس وقت رام سوامی کا علاقہ بھی شامل تھا) کی منتخب صدر تھیں۔وفات تک جماعتی کاموں کی انجام دہی احسن طریق پر کرتی رہیں۔۲۲ جولائی ۱۹۶۴ء کو وفات پائی آپ کے بھائیوں نے کراچی میں دفن کرنے پر اصرار کیا مگر محترم مولوی عبدالمجید صاحب اور محترم مولانا عبدالمالک خاں صاحب نے بڑی حکمت سے معاملات کو سلجھایا اور تکفین و تدفین کا کام سرانجام دیا۔آپ موصیبہ تھیں ربوہ کی سرزمین پر آخری آرام گاہ نصیب ہوئی۔97- میر عبدالقادر صاحب امیر جماعت احمدیہ تهران (ایران) وفات: ۲۲ اگست ۱۹۶۴ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت ملک غلام حیدر تلونڈی را ہوالی ضلع گوجرانوالہ کے فرزند تھے۔۱۹۴۵ء میں زندگی وقف کرنے کے بعد قریباً پندرہ سال دینی خدمات بجالاتے رہے۔اسی دوران کچھ عرصہ جماعت احمدیہ کراچی کے ترجمان صلح میں ایڈیٹر کے فرائض بھی سرانجام دیئے۔بعد ازاں تہران کے انگریزی روز نامہ اطلاعات میں بحیثیت مترجم ملازمت اختیار کی۔آپ کو فارسی سے انگریزی میں ترجمہ کرنے کی خاص مہارت حاصل تھی۔آپ تہران میں پانچ سال قیام فرمار ہے اور پریذیڈنٹ کی حیثیت سے نہایت درجہ سرگرمی اور اخلاص سے خدمات بجالاتے رہے۔