تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 650
تاریخ احمدیت۔جلد 22 650 سال 1964ء اور مولوی ثناء اللہ کے ذریعہ کوشش کی گئی مگر بے سود رہی۔بلکہ محترم حاجی میاں تاج محمود صاحب کا سگا بھتیجا ( سیٹھ محمد صدیق بانی کلکتہ ) احمدیت کی آغوش میں آگیا۔محترم حاجی صاحب موصی تھے۔۱۹۲۹ء میں جائیداد کا حصہ مبلغ ۱۲۰۰ روپے ادا کر دیا۔نہایت اخلاص کے ساتھ قادیان جایا کرتے تھے۔گھر میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تحت سلام کہنے کو رواج دیا۔چنیوٹ کی مسجد کے روح رواں تھے۔مسجد میں بیٹھ کر تلاوت قرآن کریم کرتے صفائی کرتے اور نہایت شوق کے ساتھ خوش الحانی سے دعوت نما ز دیتے تھے۔تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل تھے۔جسے ان کی اولاد نے زندہ رکھا ہوا ہے۔آپ کے دو بیٹے مکرم شیخ محمد یعقوب صاحب درویش قادیان اور مکرم میاں محمد اسماعیل صاحب تھے جو آپ کی زندگی میں ہی وفات پاگئے۔اور دونوں بیٹیاں بھی ان کی زندگی میں ہی انتقال کر گئیں۔92 چوہدری عبدالواحد صاحب سابق ایڈیٹر اصلاح سرینگر ولادت: ۱۵ را پریل ۱۹۰۳ء۔وفات: ۸ جولائی ۱۹۶۴ء۔۱۹۲۷ء میں جے۔وی کا امتحان پاس کر کے مدرسہ احمدیہ کے سٹاف میں شامل ہوئے اور کئی سال تک انگریزی، حساب، سائنس اور اردو پڑھانے کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔علاوہ ازیں بورڈنگ کی ٹیوٹری اور سکاؤٹنگ کا کام بھی آپ کے سپر د رہا۔اپریل ۱۹۳۶ء میں حضرت مصلح موعود نے آپ کو اخبار ” اصلاح سرینگر کی ایڈیٹری کے لئے منتخب فرمایا۔آپ کی ادارت میں اخبار اصلاح “ نے مسلمانان کشمیر میں زبر دست روح عمل پیدا کر دی۔مؤرخ کشمیر محمد دین صاحب فوق نے اپنی کتاب تاریخ اقوام کشمیر جلد دوم صفحہ ۲۸۵ میں ایک نڈر اور متوازن صحافی کی حیثیت سے آپ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور ادارہ اخبار اصلاح کا گروپ فوٹو بھی شامل کتاب کیا۔اس زمانے میں آپ نے نہ صرف ریاست کشمیر بلکہ گرہس بلتستان تک کے علاقوں کا پیدل سفر کیا جس کی وجہ سے آپ کو مرد آہن کہا جاتا تھا۔قائد اعظم محمد علی جناح نے قیام کشمیر کے دوران آپ کی شہرت سنی تو آپ کو خاص طور پر شرف ملاقات بخشا اور یہ معلوم کر کے کہ آپ احمدی ہیں اور امام جماعت احمدیہ کی ہدایات کے مطابق کشمیری عوام کی بہبود کے لئے یہ سفر کئے ہیں آپ کو بہت خوشی ہوئی۔آپ مسلسل پانچ سال تک کشمیر پریس کانفرنس کے صدر رہے۔حالانکہ آپ ہندو مفاد کے خلاف لکھتے تھے اور انہیں برا بھی معلوم ہوتا تھا۔۱۹۴۴ء میں جب کشمیر میں جماعت احمدیہ کی صوبائی تنظیم قائم ہوئی تو آپ امیر