تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 634
تاریخ احمدیت۔جلد 22 634 سال 1964ء افضل صاحب ( والد پروفیسر اخوند عبد القادر صاحب ایم۔اے) بھی اکثر ان کے ہاں آیا کرتے تھے۔یہ سب دوست مطالعہ کرتے کرتے اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہمیں بیعت کر لینی چاہیئے۔چنانچہ آپ نے بھی ان کے ساتھ ۲۰ اگست ۱۹۰۱ء کو بیعت کا خط لکھ دیا۔مئی ۱۹۰۲ء سے اپریل ۱۹۰۳ء تک آپ نارمل پڑھنے کی غرض سے ملتان میں مقیم رہے۔آپ اپنی کلاس میں واحد احمدی تھے جو جمعہ کی نماز ملتان کے قریباً تمیں چالیس احمدیوں کے ساتھ محمد بخش صاحب چھاپ گر کی دکان پر ادا کیا کرتے تھے جو ولی محمد خان والی مسجد کے مشرق کی طرف بازار کے کنارے پر واقع تھی۔اس وقت سارے پنجاب میں پانچ نارمل سکول تھے جن میں تین سو کے قریب لڑکے تعلیم پانے کی غرض سے لئے جاتے تھے۔آپ نے سالانہ امتحان میں اپنی جماعت میں اول پوزیشن حاصل کی اور کل پنجاب میں ساتویں نمبر پر رہے۔امتحان سے فراغت کے بعد آپ اپریل ۱۹۰۴ء تک ڈیرہ غازی خان میں تعلیمی فرائض سرانجام دیتے رہے۔مئی ۱۹۰۴ء میں آپ نے ٹریننگ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔اس سال چار اور احمدی بھی کالج میں داخل ہوئے۔جن میں مولوی صدر الدین صاحب بھی تھے۔(سابق امیر غیر مبائعین مراد ہیں) آپ اور دوسرے احمدی بورڈنگ ہاؤس کے احاطہ میں باجماعت نماز پڑھا کرتے تھے۔جمعہ کی نماز ضلع کی کچہری میں اور کبھی گئی بازار کی مسجد میں حضرت مولوی غلام حسین صاحب کے پیچھے ادا کرتے تھے۔جہاں انہیں قادیان سے آنے والے بزرگوں کی زیارت بھی ہو جایا کرتی تھی۔آپ پہلی بار دسمبر ۱۹۰۴ء کے جلسہ سالانہ پر قادیان دارالامان تشریف لے گئے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت اور بیعت سے مشرف ہوئے۔فرماتے ہیں خدا کا شکر ادا کیا کہ خدا نے مجھے اس وجود مسعود کے دیکھنے کی توفیق بخشی جس کے دیدار کی تمنا میں اربوں ارب لوگ اس دنیا سے بصد حسرت و یاس چل بسے۔چہرہ نورانی جس کے دیکھنے سے طبیعت سیر نہیں ہوتی تھی جی یہی چاہتا تھا کہ حضور ہماری آنکھوں کے سامنے ہوں اور ہم ان کے دیدار اور نور سے فیض یاب ہوتے رہیں۔آپ کے دیکھنے سے دل کو ایک تسلی اور روحانیت حاصل ہوتی تھی۔اونچی ناک، کشادہ پیشانی ، گندمی رنگ ، سر کے بال کانوں تک، داڑھی میں سرخ مہندی لگی ہوئی۔آنکھیں شرم و حیا کے سبب نیچے کئے ہوئے۔کسی کی طرف نظر پھاڑ پھاڑ کرنہ دیکھتے تھے کلام میں ابتدا نہ کرتے تھے۔ہاں جب کوئی تازہ الہام یا وحی بتلانا مقصود ہوتا تو عرفانی صاحب یا مفتی صاحب کو مخاطب کر کے لکھوا دیتے اور دوسرے