تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 632 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 632

تاریخ احمدیت۔جلد 22 632 سال 1964ء اکثر دفعہ آپ کو بھٹہ کے کاروبار میں اردگرد کے احباب سے عارضی طور پر کچھ دنوں کے لئے کوئی رقم لینے کے لئے جانا پڑتا یا اپنی بچی ہوئی اینٹوں کی رقوم حاصل کرنے کے لئے جانا پڑتا تو آپ کا معمول یہ ہوتا کہ گاؤں سے باہر نکلتے ہی دعا شروع کر دیتے اور ہر قسم کی بہتری کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنی ضرورت کی خاطر بھی دعا کرتے جاتے۔بعض اوقات نا واقف مرد، جوان لڑکے، عورتیں راستہ میں آپ کو روتا دیکھ کر حیران ہوتے۔بعض پوچھ بھی لیتے ”بابا کیوں روتا ہے؟ تو فرما دیتے اللہ کے آگے روتا ہوں۔اللہ سے کچھ مانگتا ہوں۔کوئی اور بات نہیں ہے۔68 گویا بے دست در کار دل بایار کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔اولاد (۱)۔فاطمہ بی بی صاحبہ (۲) مولانا غلام احمد صاحب بد و ملهوی مرحوم ( مبلغ گیمبیا) (۳) مولوی غلام مصطفی صاحب (مرحوم) (۴) سکینه بی بی صاحبہ (مرحومہ) (۵) عبد القدیر صاحب ( مرحوم ) (۶) عبدالرشید صاحب (مرحوم) حضرت محمد مسعود خان صاحب مندرانی 69 ولادت :۱۸۸۹ء۔بیعت تحریری: ۱۹۰۳ ء۔بیعت دستی : ۱۹۰۷ء۔وفات : ۸ دسمبر ۱۹۶۴ء آپ جماعت احمدیہ بستی مندرانی تحصیل تونسہ ضلع ڈیرہ غازیخان کے ان بزرگوں میں سے تھے جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت و زیارت کا شرف حاصل تھا۔آپ نے ابتدائی تعلیم حضرت حافظ فتح محمد خان صاحب مندرانی ( والد ماجد مولوی ظفر محمد صاحب ظفر ) سے حاصل کی۔۱۹۰۳ء کا واقعہ ہے کہ بستی مندرانی کے ایک قدیم احمدی بزرگ حضرت مولوی محمد شاہ صاحب پندره سولہ سال پنجاب کے مختلف علاقوں میں تعلیم پانے کے بعد جب اپنے وطن واپس آئے تو محمد مسعود خان صاحب اور ان کے والد نور محمد خان صاحب مع اپنی قوم کے احمدی ہو گئے۔محمد مسعود خان صاحب پہلی بار دسمبر ۱۹۰۷ء میں حضرت مولوی محمد شاہ صاحب کی معیت میں قادیان پہنچے۔ظہر کا وقت تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں جلوہ افروز تھے اور حضور کا نورانی چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا پہلی نظر پڑنے پر آپ کو معلوم ہو گیا کہ یہی مسیح موعود ہیں۔تحریری بیعت تو آپ کر ہی چکے تھے اس موقعہ پر آپ کو مہدی وقت کے دست مبارک پر بھی بیعت کا شرف حاصل ہو گیا۔فرمایا کرتے تھے قادیان شریف میں میرا معمول تھا کہ جس وقت حضرت اقدس تشریف لاتے۔حضور کے کلمات طیبات سننے کے لئے دوڑ پڑتا۔حضرت خلیفہ اول کے عہد مبارک میں تین چار مرتبہ