تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 631
تاریخ احمدیت۔جلد 22 631 سال 1964ء کی ضرورت پڑی تو ایک دکاندار نے اپنی صندوچی آپ کی جھولی میں الٹ دی اور کہا گھر جا کر گن لینا اور مجھے بتا دینا۔چنانچہ آپ نے گھر آکر روپے پیسے گن لئے اور رقعہ لکھ دیا کہ اتنی رقم تھی۔وسط ۷-۱۹۰۶ء کا واقعہ ہے کہ لالہ نرائن داس مذکور سے آپ نے اور آپ کے بھائی نے بہت ہی اصیل اور بے ضرر گائے خریدی۔چند روز بعد چوہدری سرفراز خان صاحب نے قادیان سے بدوملہی پہنچ کر بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک گائے کی ضرورت بیان فرمائی ہے دونوں بھائیوں نے فیصلہ کیا کہ گائے حضور کی خدمت میں بھیج دی جائے۔چنانچہ چھ سات روز تک اس کی خوراک اور پانی کا خاص خیال رکھا گیا اور روزانہ نہلایا بھی جاتا رہا۔ساتویں دن اسے میاں الہ دین صاحب حجام احمدی کے ذریعہ قادیان روانہ کر دیا گیا۔میاں الہ دین اسے دیہات کے راستے تھوڑی تھوڑی منازل طے کرتے ہوئے قادیان لایا اور آپ کے بھائی براہ راست اجنالہ سے امرتسر بٹالہ ہوتے ہوئے قادیان حاضر ہوئے اور گائے حضور اقدس کی خدمت میں پیش کر دی۔حضور نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا ” آپ لوگوں نے صحابہ کا سا نمونہ دکھایا ہے۔حضرت مولوی صاحب بہت مہمان نواز، خلیق ، صداقت شعار، وفا شعار اور مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔طبیعت میں مزاح بھی تھا مگر مناظروں میں استہزاء کو سخت ناپسند کرتے تھے۔۱۹۲۶ء میں بدوملہی سے مغرب ایک گاؤں سوہاوا میں مناظرہ ہوا۔مناظر آپ کے لخت جگر مولوی غلام احمد صاحب بدوملہوی تھے۔مناظرہ کی کامیابی پر مخالفوں نے بھی آپ کو مبارکباد دی۔تاہم آپ ترکی بہ ترکی جواب پر سخت ناراض ہوتے اور یہی فرماتے کہ عارضی فائدہ کو حاصل کرتے ہو اور مستقل فائدہ کو چھوڑتے ہو۔کوئلہ کے ہول سیل امرتسر کے ٹھیکیدار ہندوؤں سے ہزاروں روپیہ کی گاڑی منگواتے اور رقم بر وقت ادا کر دیتے۔ایسا بھی ہوا کہ بروقت ادائیگی نہ کر سکنے کے باعث ہندو اس روپیہ میں سود کا اضافہ کر دیتے مگر آپ صاف کہہ دیا کرتے میں احمدی ہوں سود ہر گز نہیں دوں گا۔نہ سود پر رقم لی ہے اور نہ دوں گا۔ہاں بیو پار میں ایسا ہو ہی جاتا ہے پس اپنا اصل زر لے لو۔چنانچہ وہ لوگ پرانے تعلقات کی وجہ سے سود چھوڑ دیتے۔گھر میں گھوڑی ہر وقت موجود رہتی تھی لیکن آپ پیدل سفر کو زیادہ پسند کرتے تھے۔فرماتے گھوڑی پر میں تھک جاتا ہوں۔بدن دکھنے لگ جاتا ہے۔پیدل سفر میں ہیں میل سے آپ نہ تھکتے تھے۔بدوملہی سے گوجرانوالہ سفر پیدل تو پاکستان بننے کے بعد بھی کئی مرتبہ کیا۔۱۹۱۶ء سے ۱۹۴۳ء تک