تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 630
تاریخ احمدیت۔جلد 22 630 سال 1964ء سماجیوں اور عیسائیوں کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔بدوملہی میں مسلمانوں کے مشہور فرقوں مثلاً بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث، نیچیری، خارجی، چکڑالوی، اثنا عشری اور تفضیلی شیعہ بھی آباد تھے اور مباحثات کا بازارخوب گرم رہتا تھا۔حضرت مولوی عبدالحق صاحب اسی مردم خیز خطہ میں پیدا ہوئے۔جماعت احمد یہ بدوملہی (ضلع سیالکوٹ) کے تین بزرگ السابقون الاولون میں شمار ہوئے ہیں۔اول چوہدری سرفراز خان صاحب نمبر دار۔دوم حضرت قطب الدین صاحب حکیم۔سوم حضرت مولوی عبدالحق صاحب۔آپ کو چوہدری سرفراز خان صاحب، چوہدری اللہ دتہ صاحب نمبر دار خانا والی اور مولوی فضل کریم صاحب قلعہ صوبہ سنگھ کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عقیدت و محبت پیدا ہوئی اور حضرت مولوی نور الدین صاحب بھیروی پہلے علامہ دوراں اور عاشق قرآن کے احمدی ہو جانے سے حضور علیہ السلام کی صداقت کا پختہ یقین ہو گیا۔جس کے بعد آپ نے اور آپ کے منجھلے بھائی مولوی غلام رسول صاحب نے قادیان پہنچ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔قادیان سے واپسی پر آپ کے والد اور بڑے بھائی مولوی محمد علی صاحب اور حکیم محمد بخش صاحب داخل احمدیت ہو گئے اور جمعہ کی نمازیں حکیم صاحب کی مسجد میں ہونے لگیں جہاں حضرت مولانا نورالدین صاحب شاہی طبیب جموں نے بھی نماز ظہر وعصر جمع کی تھی۔۱۹۲۰ء کے بعد حضرت مولوی عبدالحق صاحب نے اپنے خرچ پر ایک وسیع مسجد تعمیر کرائی۔جس میں بیک وقت چھ سات سو افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔حضرت مولوی صاحب عرصہ تک سیکرٹری مال و تبلیغ رہے اور آپ کے ذریعہ بہت سی سعید روحوں نے احمدیت قبول کی۔اس کے بعد آپ کو اور آپ کے دوسرے بھائیوں کو اغیار بھی عزت و احترام سے دیکھتے تھے بلکہ ہندوؤں اور مسلمانوں نے تو یہ سمجھ رکھا تھا کہ جس کام میں آپ ہوں گے اس میں ضرور برکت ہوگی۔بدوملہی آریہ سماج کے پریذیڈنٹ لالہ نرائن داس صاحب صراف ۱۹۰۲ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کے لئے قادیان گئے تھے۔ان کی طبیعت پر اسلام کی صداقت کا اثر یہ تھا کہ لالہ جی جب فوت ہونے لگے اور چار پائی سے اتار کر انہیں زمین پر لٹا دیا گیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے خواہش کی کہ جاؤ عبد الحق کو بلا لاؤ۔کچھ گیان دھیان کی باتیں سن لوں۔چنانچہ آپ ان کے پاس گئے اور توحید معرفت الہی اور خدا تعالیٰ کے مجیب الدعوات ہونے کا تذکرہ ہوتا رہا۔آپ کے واپس آنے کے بعد جلد ہی لالہ جی فوت ہو گئے۔آپ کو ایک بار بھٹے کے کاروبار کے سلسلہ میں اچانک چند ہزار روپے