تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 621 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 621

تاریخ احمدیت۔جلد 22 621 سال 1964ء ایک دفعہ وہ میری والدہ ( بیگم راجہ ناصر احمد صاحب) کے پاس کچھ عرصہ قیام کے لئے آئیں تو کام کرنے والی ایک لڑکی (جو مذ ہباً عیسائی تھی) کو نماز سکھانی شروع کر دی اور وہ بھی نہایت جذ بے سے نماز سیکھنے لگی جس کی وجہ آپ کی محبت اور طریقہ تھا جس سے وہ لڑ کی بھی متاثر ہوئی۔آخری عمر میں نظر بہت کمزور ہو چکی تھی لیکن آوازسن کر پہچان لیتی تھیں۔تو بہ اور استغفار کا ورد کرنا اور کہنا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لئے اتنی عمر دی ہے تا کہ میں خلیفہ اسیح اور خاندان مسیح موعود کے لئے دعائیں کر سکوں۔آخر یہ دعاؤں اور محبتوں سے گندھا وجو د اگست ۱۹۶۴ء میں ۹۵ سال کی عمر میں خدا کے حضور حاضر ہو گیا۔آپ کی وصیت نمبر ۴۱۵ اور حصہ وصیت ۱/۵ تھا۔آپ کی ساری زندگی درویشانہ گزاری مگر ایک وقار کے ساتھ بنا کسی طمع اور خواہش کے۔اپنے اور پرائے ہر ایک کے ساتھ محبت اور ہمدردی کے سلوک نے انہیں سب میں ممتاز کر دیا تھا۔یقیناً اپنی محترم عادات اور نیکیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پیاروں کے ساتھ اپنے قرب میں جگہ دی ہوگی اور ان خوبیوں کی وجہ سے وہ اپنی اولاد در اولاد کے دلوں میں زندہ ہیں۔حضرت غلام فاطمہ صاحبہ اہلیہ حضرت شیخ حسین بخش صاحب ولادت: ۱۸۷۸ء۔بیعت :۱۹۰۳ء۔وفات: ۲۶ را گست ۱۹۶۴ء عبادت گزار اور دین کے لئے در د دل رکھنے والی خاتون تھیں۔خیرات وصدقات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتیں۔اور غرباء کا خاص طور پر بہت خیال رکھتی تھیں۔ہیں۔52 حضرت اله بی بی صاحبہ زوجہ حضرت مولانا محمد اسمعیل صاحب حلالپوری ولادت: ۱۸۸۸ء۔بیعت: مارچ ۱۹۰۸ء۔وفات :۱۳ ستمبر ۱۹۶۴ء آپ کا شمار بھی سلسلہ کی ان بزرگ خواتین میں ہوتا ہے جو تہجد گزار، بکثرت دعائیں کرنے والی 54 تھیں۔آپ کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے پانچ بیٹوں مکرم مولانا محمد احمد جلیل صاحب پروفیسر جامعہ احمدیہ، ناظم دار القضاء ومفتی سلسلہ مکرم مولوی عبد الکریم صاحب، مکرم عبدالمنان صاحب، مکرم عبدالقادر صاحب ،مکرم عبداللطیف صاحب اور ایک بیٹی محترمہ حفصہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم قریشی محمود الحسن صاحب آف سرگودھا( جو کہ مکرم مجید احمد قریشی صاحب ریٹائر ڈ سپرنٹنڈنٹ جیل کی والدہ ہیں ) سے نوازا۔