تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 620 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 620

تاریخ احمدیت۔جلد 22 620 سال 1964ء تو ۹۰ سال سے زائد عم پا کر خدا کے حضور حاضر ہوئے جبکہ ایک بیٹی (عائشہ بیگم صاحب ) شادی کے ۰۸ اسال کے بعد فوت ہو گئیں۔سیکھواں میں ماں جی اپنی دو جٹھانیوں کے ساتھ رہتی تھیں۔صحن ایک تھا اور آپ میں اتنا اتفاق تھا کہ جب ان کی جٹھانیوں کے مہمان آتے تو پہلے ان کا کمرہ تھا اس لئے ان کی خاطر تواضع کر کے پھر متعلقہ گھر بھجواتی تھیں اور چونکہ آپ پڑھی لکھی تھیں اس لئے سیکھواں میں عورتوں کو جمعہ اور عیدین کی نمازیں پڑھاتی تھیں۔ان کے بیٹے مولانا قمر الدین صاحب قادیان سے پڑھے پھر واقف زندگی ہونے کی وجہ سے شادی کے بعد قادیان میں ہی سکونت اختیار کی۔تب کچھ عرصہ کے بعد ماں جی بھی قادیان آ کر رہنے لگیں۔نہایت نیک اور ہمدرد طبیعت پائی تھی۔ہر وقت دعاؤں اور نمازوں کی طرف دھیان رہتا تھا پھر حضرت مسیح موعود کی نظمیں پڑھتی تھیں جس کی وجہ سے پوتیوں اور پوتوں کو بھی یاد ہو گئیں۔۱۹۳۹ء میں میری نانی جان وفات پاگئیں۔اس وقت یہ چار بہن بھائی چھوٹے تھے۔ایک بھائی تو پونے دو سال کے تھے۔تب ماں جی نے جس طریقے سے ان کی پرورش کی وہ قابل تحسین ہے۔بڑی عمر میں چھوٹے بچے کی وجہ سے ساری ساری رات بھی جاگنا پڑتا تھا۔پھر بڑی پوتیاں تھیں ان کو زندگی گزارنے کے متعلق چھوٹے چھوٹے مگر اہم امور بتاتی تھیں اور ہر طرح سے ان چار بچوں کی نیک تربیت پر زور تھا۔پھر ان بچوں کو خدا تعالیٰ نے دوسری والدہ عطا کیں جو اسم بامسمی تھیں بہت اچھا وقت گزرا اور انہوں نے ہر طرح سے خیال رکھا لیکن ماں جی کی اہمیت اپنی جگہ کیونکہ ان کا سایہ اپنے بچوں سے اپنے پوتوں پوتیوں تک پھیل گیا تھا جس میں صرف پیار، دعائیں اور سکون تھا۔قادیان اور پھر ربوہ آ کر بھی ماں جی کا حضرت اماں جان کے ساتھ تعلق قائم رہا۔ایک دفعہ حضرت اماں جان نے فرمایا تم مجھے ویسی ہی موٹھ کی کھچڑی بنا کر کھلاؤ جیسی تم بناتی تھیں۔میری والدہ بتاتی ہیں کہ ایک دفعہ وہ میرے بڑے بھائی ( شاہد راجہ جو اس وقت بہت چھوٹے تھے ) کو لے کر ماں جی کے ساتھ حضرت اماں جان سے ملاقات کے لئے گئیں تو انہوں نے فرمایا ” تم میری سہیلی ہو یا د ہے ہم کھد و کھیلا کرتے تھے۔شفقتیں اور محبتیں تو ماں جی کا سرمایہ تھیں اور وہ اس سرمائے کو نہایت فراخی سے دوسروں میں تقسیم کرتی تھیں۔ماں جی بھی ہر وقت دین اور اس کی تعلیمات کی باتیں کرتی تھیں مگر بہت اچھے انداز میں کہ دوسرا شخص خود بخودان کی باتوں میں دلچسپی لیتا تھا۔