تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 617
تاریخ احمدیت۔جلد 22 617 سال 1964ء قبلہ ڈاکٹر صاحب نے ۱۹۵۳ء میں ریٹائر ہو کر گجرات میں پریکٹس شروع کی اور چند ماہ کے اندر اندر ان کا دواخانہ مرجع خلائق بن گیا۔اور جب ان کی مالی حالت بھی بدرجہا بہتر ہوگئی تو انہوں نے پہلے سے بھی بڑھ کر مالی جہاد میں حصہ لینا شروع کر دیا اور ہر تحریک میں سبقت لے گئے۔نہ صرف غریب احمدیوں کی مدد کی بلکہ عام خلق اللہ کی بھی حتی المقدور امداد کرتے رہے۔اور غریبوں اور محتاجوں کے لئے ان کے وسائل وقف رہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں میں شفار کھی تھی۔اور ان کا مسکن گجرات کے ہر طبقہ کے لئے باعث رحمت و عافیت تھا۔نہایت ہی کم گو متواضع اور خدا یاد بزرگ تھے۔دعاؤں میں بڑا شغف رکھتے تھے۔صاحب رؤیا و کشف تھے۔منکسر المزاج، طبیعت کے نرم اور دل کے حلیم تھے۔ان کا حلقہ احباب نہایت وسیع تھا اور بڑے اثر ورسوخ کے مالک تھے۔ملک عبدالرحمن ) خادم صاحب مرحوم و مغفور کی لمبی اور آخری بیماری میں قائمقام امیر شہر وضلع کے فرائض کما حقہ ادا کرتے رہے۔اور خاکسار کے زمانہ امارت میں بھی انہوں نے کئی نہایت اہم شعبے سنبھال رکھے تھے اور خاکسار کے دست راست تھے۔وفات سے دو تین ہفتہ قبل جب وہ ابھی تندرست تھے تو انہوں نے سفر آخرت کی تیاری شروع کر دی تھی۔سب سے پہلے اپنی وصیت کے مطابق حصہ جائداد ادا کیا۔بحیثیت امین جماعت گجرات اپنے حسابات چیک کروائے۔اپنی تجہیز و تکفین کے متعلق مفصل ہدایات دیں اور حتی الامکان کوئی معاملہ بھی ادھورا نہ چھوڑا۔حضرت بابا اللہ بخش صاحب در ولیش قادیان 45 ولادت : ۱۸۸۲ء۔بیعت: ۱۹۰۵ء۔وفات : ۳۱ جولائی ۱۹۶۴ء۔اصل وطن ہر چووال ( متصل قادیان)۔آپ کے والد کا نام مکرم محکم دین صاحب تھا۔عین جوانی کے ایام میں سیدنا مسیح موعود علیہ السلام کی ڈیوڑھی میں دربانی کا شرف حاصل ہوا۔اس کے بعد حضرت نواب محمد علی خان صاحب اور حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کے ملازموں میں شامل ہو گئے۔نیز حضرت مصلح موعود کے دربان کے طور پر بھی خدمت بجالاتے رہے۔نہایت شریف النفس ، متوکل ، سادہ طبع ، کم گو اور عابد وزاہد بزرگ تھے۔تقسیم ملک کے بعد آپ نے اپنے بڑھاپے کی زندگی کے ۷ سال نہایت خاموشی اور صبر وسکون سے قادیان کی مقدس بستی میں گزارے۔آپ نصف شب کے بعد کبھی نہ سوتے تھے اور آدھی رات