تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 616 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 616

تاریخ احمدیت۔جلد 22 616 سال 1964ء اور نہایت دعا گو خاتون تھیں۔علم دوست تھیں۔اردو، فارسی ، عربی روانی سے پڑھتیں اور پڑھا لیتی تھیں۔بلکہ سادہ انگریزی بھی پڑھ لیتی تھیں۔اردو، فارسی اور عربی کے لا تعدا د شعر اور ضرب الامثال زبانی یاد تھیں۔مہمانوں کی خاطر مدارت بہت شوق سے کرتیں۔بیوگی کا ۳۴ سالہ لمبا عرصہ نہایت صبر و تحمل اور محنت و جاں فشانی سے گزارا۔آپ نہایت خلیق اور ملنسار تھیں۔عزیز واقارب میں عزت و احترام کا مقام رکھتی تھیں۔لاہور میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسوں کا انتظام خود کرتیں۔جو ان دنوں برکت علی محمدن ہال بیرون موچی دروازہ لاہور ہوا کرتے تھے۔جن میں ہندو، سکھ اور عیسائی عورتیں حصہ لیتیں اور تقریریں کرتیں۔جلسہ کی صدارت کے لئے آپ تحریک پاکستان کی مشہور عورتوں کو مدعوکر تیں۔ایک جلسہ میں صدارت لیڈی سرعبد القادر کر رہی تھیں آپ کی بیٹی محترمہ عفت نصیر صاحبہ نے در مشین کی نظم وہ پیشوا ہمارا پڑھی جس پر لیڈی سرعبد القادر نے خوش ہو کر پانچ روپے انعام دیا۔آپ نے بیٹی کو یہ رقم چندہ میں دینے کی تحریک کی جس پر آپ کی بیٹی نے فورا عمل کیا۔نظام سلسلہ سے آپ کو گہرا لگاؤ تھا۔آپ بہت زندہ دل تھیں اور طبیعت میں مزاح بھی تھا۔حضرت حسین بی بی صاحبہ اہلیہ چوہدری برکت علی صاحب مرحوم اراضی یعقوب سیالکوٹ ولادت : ۱۸۹۲ء۔بیعت : اکتوبر یا نومبر ۱۹۰۴ء۔وفات : ۱۵ جولائی ۱۹۶۴ء خوشدامن ظہور احمد صاحب آڈیٹر صدرانجمن احمد یہ۔صوم وصلوۃ ، تہجد اور اشراق کی پابند اور دعاؤں میں خاص شغف رکھنے والی بزرگ خاتون تھیں۔حضرت ڈاکٹر اعظم علی صاحب آف گجرات 41 ولادت: ۱۸۹۱ء۔بیعت : ۰۴-۱۹۰۳ء۔وفات : ۱۶ را گست ۱۹۶۴ء چوہدری بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر ضلع گجرات تحریر فرماتے ہیں:۔44 حضرت مصلح موعود نے ڈاکٹر صاحب کو ۱۹۳۴ء میں ضلع امرتسر میں امیر التبلیغ مقرر فرمایا تو ڈاکٹر صاحب نے ملازمت سے لمبی رخصت لے کر ضلع امرتسر میں منظم تبلیغی مہم کو جانفشانی سے چلایا اور کا رہائے نمایاں کر کے حضرت اقدس کی خوشنودی حاصل کی۔دوران ملا زمت جہاں کہیں بھی رہے احمدیت کی بے لوث خدمت کرتے رہے اور ہمیشہ خدمت خلق کو اپنا شعار بنایا اور اپنوں اور بیگانوں کے دل موہ لئے۔