تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 47 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 47

تاریخ احمدیت۔جلد 22 47 سال 1963ء اور مسلمانوں بالخصوص عیسائیوں اور احمدیوں میں منافرت پیدا ہو سکتی ہے۔مگر یہ عجیب معتمہ ہے کہ گزشتہ چھیاسٹھ سال میں یہ منافرت نہ پیدا ہوئی۔انگریزی حکومت کے عہد میں نہ پیدا ہوئی اور اس کتاب کے خلاف کبھی احتجاج نہ ہوا۔صرف آج مغربی پاکستان کے حکام کو ہی اس کا احساس ہوا ہے۔کیا عیسائی پادریوں کو خوش کرنے کی یہ سکیم عمداً اختیار کی گئی ہے؟ آج پاکستان میں شور ہے کہ عیسائی پادری دھڑا دھڑ مسلمانوں کو عیسائی بنا رہے ہیں اور جائز و نا جائز ذرائع سے کلمہ گوؤں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔مگر ہماری حکومت ہے کہ اس جارحانہ حملہ کے دفاع کے لئے جوابی مفید لٹریچر کو ضبط کرنے کے درپے ہے۔ان حالات میں اللہ تعالیٰ ہی ہماری قوم اور ہمارے ملک کا محافظ ہے۔ہمیں بتایا گیا ہے کہ پادریوں نے دیگر مختلف مسلمان مصنفین کی پچاس کے قریب کتابوں کی ضبطی کے لئے بھی سکیم بنارکھی ہے۔اس لئے مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس موقعہ پر متحدہ طور پر حکومت پر واضح کریں کہ اس کا یہ اقدام غیر دانشمندانہ اور سراسرنا مناسب ہے۔ہم نے رسالہ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب “بارہا پڑھا ہے اور آج بھی اسے مطالعہ کیا ہے اس میں صرف قرآن مجید اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و برتری کا نہایت دلنشین انداز میں اثبات ہے اور عیسائی سائل کے سوالات کے جواب میں اسلام اور عیسائی عقائد کا مؤثر موازنہ ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ اس رسالہ کو پڑھنے سے عیسائی عقائد کا بودا پن بالکل نمایاں ہو جاتا ہے۔مگر کیا حکومتِ مغربی پاکستان کے لئے روا ہے کہ صرف اس بناء پر کسی رسالہ کو ضبط کر لیا جائے؟ ہمارے نزدیک اس جوابی رسالہ میں کوئی حصہ یا عبارت اشتعال انگیز یا منافرت پھیلانے والی نہیں ہے اور ہمیں کامل یقین ہے کہ کوئی غیر جانبدار حج حکومت کے اس حکم کو ہرگز جائز قرار نہ دے گا۔اسلئے ہم پورے زور سے اپیل کرتے ہیں کہ حکومت مغربی پاکستان عدل و انصاف کے تقاضا کو پورا کرنے کے لئے اپنے حکم کو واپس لے کر عمدہ مثال قائم کرے۔۔ہفت روزہ ”پیغام قائد (سرگودھا) ،، 93 سرگودھا سے شائع ہونے والے اس ہفت روزہ نے لکھا:۔جماعت احمدیہ سرگودھا کے ممبران نے سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب“ کی