تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 600
تاریخ احمدیت۔جلد 22 600 سال 1964ء متواتر لکھے گئے اور لڑکی کی حالت سے روزانہ اطلاع دی جاتی رہی۔لیکن چونکہ ابھی تھوڑا ہی عرصہ ان کو قادیان سے واپس گئے ہوا تھا اس لئے انہوں نے واپسی کے لئے درخواست کرنے میں حجاب ہی محسوس کیا اور آخر جب لڑکی کی نازک حالت دیکھ کر میری اجازت سے انہیں تار دیا گیا تو پھر بھی کراچی شہر سے اپنے مرکز روہڑی میں آکر تبلیغ کے متعلق مناسب ہدایات دے کر اور ایک رات وہاں ٹھہر کر اس وقت قادیان پہنچے جبکہ مرحومہ کا جنازہ گھر سے لے جایا جا چکا تھا اور صرف ان کا انتظار ہورہا تھا۔تعاون و وفاداری کی یہ روح ہے کہ چند دن ہوئے کہ بوجہ علالت و بغرض علاج انہوں نے چند یوم کے لئے واپس آنے کی اجازت طلب کی۔آمد و رفت کے اخراجات اور مالی مشکلات کی وجہ سے ان کو لکھا گیا کہ آپ ایثار کریں اور اس وقت رخصت نہ لیں۔وہاں ہی ٹھہر کر علاج کرائیں۔اس پر انہوں نے نہایت ہی خوشی سے اپنی رخصت کی درخواست واپس لے لی۔ایک مبلغ کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں اس وقت تک بہت سی دشواریاں پیش آنے کا اندیشہ ہے جب تک کہ خاص و عام میں اس کا رسوخ نہ ہو۔مولوی صاحب کا رسوخ نہ صرف احمدیوں تک ہی محدود رہا بلکہ وہ عامتہ الناس کے علاوہ غیر احمدیوں کے تعلیم یافتہ اور ذی اثر طبقہ میں بھی وقعت کی نظر سے دیکھے جاتے رہے ہیں۔چنانچہ وہ غیر احمدی احباب اور اسلامیہ انجمنیں جو پہلے سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ساتھ شدید اختلاف رکھتی اور بات سننا گوارا نہ کرتی تھیں مولوی صاحب کے حسن سلوک اور حسنِ اخلاق اور رسوخ کی وجہ سے اب سلسلہ کی مداح ہیں اور نہ صرف مداح ہیں بلکہ ہمارے مبلغوں کو خود اخراجات دے کر بلاتی ہیں (حال ہی میں ایک اسلامیہ انجمن نے اپنے جلسہ میں مولوی صاحب کو اپنا صدر تجویز کیا) نظر بریں حالات میں خوش ہوں کہ مولوی صاحب نے اپنے فرائض کو نہایت دیانتداری، جانفشانی اور عزم و استقلال سے سرانجام دیا ہے اور علاقہ سندھ میں وہ ایک کامیاب مبلغ ثابت ہوئے ہیں۔15 تیسری رپورٹ: جناب میر مرید احمد خاں صاحب ( ناپر فیملی جاگیر دار واڑ اوا ہن ) و حضرت ماسٹر محمد پریل صاحب ( ہیڈ ماسٹر شہر کمال ڈیرہ سندھ۔حضرت مسیح موعود کے صحابی خاص اور مولوی بشارت احمد صاحب بشیر مبلغ افریقہ کے والد ماجد نے اگست ۱۹۲۸ء میں سندھ سے حسب ذیل مراسلہ ارسال کیا:۔ا۔ہمارے مربی ومحسن مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری امیر التبلیغ سندھ بیماری کی وجہ سے