تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 598 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 598

تاریخ احمدیت۔جلد 22 598 سال 1964ء کے قابل ہو گئے۔۱۹۲۴ء میں ان کو دو معاون دیئے گئے اور اب صرف ایک ہی معاون ان کے ساتھ ہے۔اس علاقہ میں بھی ملکانہ کی طرح آریہ لوگ بعض قوموں میں اپنا کام کہیں کہیں کر رہے تھے لیکن مبلغین سندھ نے ایسی تمام جگہوں کا دورہ کر کے اس آنے والے سیلاب کو روک دیا۔سال زیر رپورٹ میں مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری اپنی اور اپنے بچوں کی طویل علالت کی وجہ سے دوماہ کی رخصت پر اپنے علاقہ سے غیر حاضر رہے ہیں۔اس کے بعد ان کی قابلہ اور لائقہ بیٹی فوت ہوگئی اور اس وجہ سے ان کو قریباً بیس یوم پھر قادیان میں آکر رہنا پڑا۔اِن ناخوشگوار حالات میں بھی انہوں نے اپنے فرائض منصبی کو نہایت خوش اسلوبی اور جانفشانی سے ادا کیا ہے۔ان کا مرکز روہڑی میں ہے۔لیکن تمام سال وہ دورہ پر رہے ہیں۔سال زیر رپورٹ میں ان کو دو دفعہ جماعت احمد یہ کراچی کی اصلاح و تربیت کے لئے جانا پڑا۔علاقہ کی تمام جماعتوں کا بار بار دورہ کیا۔چھ نئی انجمنیں قائم کیں۔۷۵ کس مولوی صاحب کے ہاتھ پر داخل سلسلہ ہوئے۔دونوں مبلغین نے ۲۲۸ مقامات کا دورہ کیا۔آٹھ جلسے اور مناظرے ہوئے جن میں سے تین جگہوں سے غیر احمدیوں نے اپنے خرچ پر بلایا۔علاقہ کی عام حالت : علاقہ سندھ میں سلسلہ کے متعلق پہلے بہت نفرت اور تعصب تھا جو رفتہ رفتہ کم ہوا۔اب لوگ سلسلہ اور مبلغین سلسلہ اور خدمات سلسلہ کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔چنانچہ گذشتہ فروری میں مولوی صاحب کی تحریک پر غیر احمدیوں کی ایک انجمن تبلیغ الاسلام سکھر نے ہمارے دو مبلغوں کو اپنے جلسہ میں اپنے خرچ پر مرکز سے بلایا۔اس میں ظفر علی خان صاحب مدیر ”زمیندار“ بھی بحیثیت صدر ولیکچرار مدعو تھے۔مگر انہوں نے ہمارے خلاف اپنی تقریر کے دوران میں کچھ کہنا چاہا تو پریذیڈنٹ جلسہ نے ان کو اتنا روکا کہ انہیں اپنی تقریر چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔علاقہ کے اخبارات بھی سلسلہ کے مداح ہیں حالانکہ پہلے سخت مخالفت تھی۔ہر طبقہ کے بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ مولوی صاحب کا رسوخ ہے۔غرض حالات حاضرہ و ماضیہ کے توازن سے کہا جاسکتا ہے کہ آئندہ حالات انشاء اللہ بہت ہی امید افزا ہیں اور سعید روحیں بہت جلد داخل سلسلہ ہوں گی“۔دوسری رپورٹ: حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب نے الفضل ۳۱ راگست ۱۹۲۸ء صفحہ 9 پر لکھا:۔ان اوصاف حمیدہ کے علاوہ جن کا ایک مبلغ اسلام میں پایا جانا لازمی ہے ان کا ان چار صفات سے متصف ہونا بھی ضروری ہے۔دیانت وامانت، تقویٰ اور خشیۃ اللہ۔مرکزی احکامات کی اطاعت اور افسران سے تعاون و وفاداری۔علاقہ میں رسوخ۔اور مجھے خوشی ہے کہ ان چاروں صفات سے 14