تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 46 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 46

تاریخ احمدیت۔جلد 22 46 سال 1963ء انسداد محال ہو گا۔بہتر ہو کہ اس پر ابھی نظر ثانی کر لی جائے اور غریب اسلام کو اُن صدموں اور زخموں 91 سے بچالیا جائے جو اُ سے اس کے شدید ترین دشمنوں نے بھی پہنچانے کی کبھی جرات نہیں کی تھی۔( حضرت ) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے اس ادارتی نوٹ پر مدیر لا ہور کو حسب ذیل مراسلہ لکھا:۔مکرم و محترم ثاقب صاحب۔السلام علیکم ! سب سے پہلے تو میں یہی کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔کتاب "سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب“ کی ضبطی سے متعلق آپ نے لا ہور میں جو احتجاج کیا ہے۔اُسے پڑھ کر بے اختیار آپ کے لئے دعا نکلتی ہے۔اس کی ابتداء بھی مجھے پسند آئی۔انتہا اور درمیان بھی۔حیرت ، افسوس اور نفرین کے جذبات سے لبریز ایک بے اختیار شیخ کا رنگ اس میں پایا جاتا ہے۔اور حق بھی یہی تھا۔اول تو کتا بیں ضبط کرنے کی رسم ہی بے ہودہ ہے۔دوسرے دشکنی ایک غیر معین لفظ ہے۔جو ہر قید وبست سے آزاد ہے۔وہ واقعہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ایک غریب بھیڑیے کی اس وجہ سے بہت دشکنی ہوئی تھی کہ ایک ظالم بھیڑ کا بچہ اُس ندی کے بہاؤ کی طرف پانی پی پی کر گدلا کر رہا تھا۔جس ندی کے اوپر کی طرف وہ بھیٹر یا پانی پی رہا تھا۔ظلم کی حد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں لکھی جانے والی کتا ہیں دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت ضبط کر رہی ہے۔ع چوں کفر از کعبه بر خیز دکجا ماند مسلمانی۔۔۔۔حضرت صالح کی قوم یاد آ جاتی ہے جس نے اپنے نبی کی اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں“۔۲۔رسالہ الفرقان (ربوہ) 92 رسالہ ”الفرقان“ نے ”احتجاج“ کے عنوان سے درج ذیل خصوصی نوٹ شائع کیا۔انتہائی حیرت ، تعجب اور گہرے رنج کی بات ہے کہ اسلام سے برگشتہ ہونے والے ایک عیسائی پادری سراج الدین کے چار سوالوں کے اسلام، قرآن مجید اور سرور کونین محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت و برتری ثابت کرنے والے جو مسکت ، مدلل اور واضح جوابات ۲۲ جون ۱۸۹۷ء کو اسلام کے فتح نصیب جرنیل حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے شائع فرمائے تھے انہیں آج ۱۹۶۳ء میں مغربی پاکستان کی اسلامی حکومت نے ضبط قرار دیا ہے۔کیوں؟ کہا گیا ہے کہ اس سے عیسائیوں