تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 45 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 45

تاریخ احمدیت۔جلد 22 45 سال 1963ء اصطلاحیں تھیں۔مسیح ناصری کے لئے لعنتی موت کی موشگافی آج تک کسی بھی سچے مسلمان کی طرف سے نہیں کی گئی۔کیونکہ قرآن تو اس اتہام کو سراسر باطل قرار دیتا ہے۔حیرت ہے تو اس پر کہ مغربی پاکستان کی موجودہ حکومت کو دل آزاری ناپنے کا یہ پیمانہ کہاں سے ہاتھ آ گیا۔جس کے ذریعہ اُس نے اس کی گہرائی و گیرائی ناپتے ہی اسلام کی تائید میں مبرہن جوابات پر مشتمل اس پمفلٹ کے بارے میں ایک ایسا حکم جاری کرنے میں ذرہ بھر تذبذب سے کام نہ لیا۔جس کی توفیق انگریزی دور میں نصرانی مذہب رکھنے والی حکومت کو بھی نہ ملی تھی۔کیا ایسا کر کے دل آزاری کا سد باب کیا گیا ہے۔یا جدید قسم کی دل آزاری کی طرح ڈالی گئی ہے؟ کیونکہ ہمارے خیال میں اسلام کی مبرہن تنظیم کو ڈھانپ کر اور چھپا کر تو عیسائیوں کی اس جدید قسم کی دل آزاری کی تشفی کبھی نہ ہو سکے گی۔اسلام کا قرآن تو جب ان ( ایک انسان کو ) خدا اور خدا کا بیٹا بنانے والوں کے اس عقیدے کو دیکھتا ہے تو فرط کرب سے یہاں تک پکار اٹھتا ہے۔” قریب ہے کہ آسمان اور زمین پھٹ جائیں۔اگر کل کلاں کو ۱۹۶۳ء کے ان انو کھے جذبات رکھنے والے عیسائیوں نے یہ عرضی داغ دی کہ حضور ہماری تو قرآن کی اس آیت سے بھی دل آزاری ہوتی ہے۔تو کیا حکومت آئندہ کے لئے اس آیت کے حامل قرآن کی اشاعت بھی روک دے گی۔صاحب اختیار جوٹھہری۔کاش دل آزاری کا مالہ وماعلیہ زیر غور لاتے وقت حکومت یہ بھی ذہن میں رکھتی کہ وہ ایک کتابچہ کی ضبطی کا حکم ہی نہیں دے رہی۔ایک ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ( خدمت و تبلیغ اسلام کے نشہ میں سرشار ) جماعت کے واجب الاطاعت بانی کی تحریر کو بالجبر دبا دینے کا حکم جاری کر کے ایک پوری جماعت کی دل آزاری کا ارتکاب کر رہی ہے۔جس کے بعد اُس کا اپنی حکومت پر اعتماد اور اُس کے طرز فکر سے متعلق نظریہ یکسر تبدیل ہو کر رہ جائیں گے۔کاش اُسے اس فرضی اور موہوم دل آزاری کی آڑ میں اسلام کے مبسوط دلائل کو دبانے اور ایک آئین پسند جماعت کے لکھوکھا افراد کی دلآزاری کرنے کا مشورہ نہ دیا جاتا۔بلکہ ہمیں یہ بھی بتا دینے کی اجازت دی جائے کہ جس شخص یا ادارہ نے بھی گورنر مغربی پاکستان کو اس کتابچہ کی ضبطی کا مشورہ دیا ہے۔اُس نے پاکستان اور اسلام کی کوئی خدمت بجالانے کی بجائے ایک ایسے فتنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔جسے " سجدہ سہو کے بعد اگرا بھی نہ دبا لیا گیا تو ملک بھر میں تشت وافتراق تراشنے ، پرانی کتب کے مواد کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور اُن کے مفاہیم سے موہوم دل آزاریوں کے عرق نچوڑنے کی ایک ایسی خطرناک دوڑ شروع ہو جائے گی۔جس کا