تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 594
تاریخ احمدیت۔جلد 22 594 سال 1964ء میں بوقت بیعت حضرت مسیح موعود نے میرے عرض کرنے پر مجھے ارشاد فرمایا تھا کہ مولوی صاحبہ لوگوں سے کہہ دینا کہ میں نے حق کو پالیا ہے اور دعا کرنے کے بعدان کو تبلیغ کرنا اللہ تعالی آپ کی مدد فرمائے گا۔پھر جب آپ نے دوسرے مہینے (خلافت ثانیہ کا دوسرا مہینہ مراد ہے۔ناقل ) اپریل میں مبلغین کی تحریک کی تھی تو اس وقت بھی حافظ روشن علی صاحب اور بابا حسن محمد صاحب اور شیخ غلام احمد صاحب واعظ کے ساتھ میں نے بھی زندگی وقف کی ہوئی ہے تو جس طرح دس سال سے گزارے کا اپنا انتظام کر کے سلسلہ کے ماتحت تبلیغ کر رہا ہوں ایسا ہی گزارے کا انتظام میں اب بھی اپنا کرلوں گا“۔حضور نے فرمایا پہلے تو آپ انجمن کے چوبیس گھنٹہ ماتحتی میں کام نہیں کرتے تھے اب آپ کو یہ گزارہ لینا جائز ہے۔حضور نے اس بارے میں خوب روشنی ڈالی۔جس سے آپ کی تسلی ہوگئی کہ اگر چہ آپ وقف زندگی ہیں تاہم اب صدر انجمن احمدیہ کے ماتحت رہ کر گزارہ لینے کی شرعاً اجازت ہے (اس طرح آپ صدرانجمن احمدیہ کے حلقہ ملا زمت میں آئے اور ۱۹۳۸ء میں پنشن یاب ہوئے۔) حضور کی ہدایت پر آپ حضرت مولوی شیر علی صاحب کے پاس آئے۔انہوں نے پوچھا آپ کا گزارہ کتنے میں ہو جائے گا۔آپ نے بتایا کوئی دس بارہ روپیہ میں۔حضرت مولوی شیر علی صاحب نے پندرہ روپیہ ماہوار تنخواہ مقرر کر دی۔حضرت اقدس کو اطلاع ہوئی تو فرمایا یہ تھوڑا ہے جس پر حضرت مولوی صاحب نے بائیس روپے مقرر کر دی۔چوہدری افضل حق ( مفکر احرار ) کی تربیت حضرت مولا نا بقا پوری فرماتے ہیں کہ انجمن کی ملازمت میں آنے کے بعد ۱۹۱۵ء میں آپ کی پہلی تقرری راولپنڈی میں کی گئی۔ان دنوں چوہدری افضل حق صاحب ( مفکر احرار ) کے بڑے بھائی چوہدری عبدالحق صاحب بطور انسپکٹر پولیس متعین تھے جنہوں نے حضرت سید محمد اشرف صاحب سے ذکر کیا کہ افضل حق بی۔اے تو پاس کر آیا ہے لیکن دہریت سرایت کر گئی ہے نہ خدا کو مانتا ہے نہ اسلام سے کوئی دلچسپی ہے۔شاہ صاحب نے ان سے کہا ہمارے مولوی صاحب یہاں موجود ہیں ان سے قرآن شریف کا ترجمہ افضل حق کو پڑھائیں تا کہ دینی علوم سے بھی واقفیت ہو جائے۔اس پر انہوں نے چوہدری افضل حق کو آپ کے پاس بھیجا۔آپ نے تقریباً اڑھائی ماہ تک انہیں ترجمہ قرآن سکھلایا۔اس کے بعد چوہدری عبدالحق صاحب کی تبدیلی لا ہور ہوگئی۔اس لئے ان کو بھی لاہور جانا