تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 593
تاریخ احمدیت۔جلد 22 593 سال 1964ء فرمانے لگے مولوی صاحب اس طرح کی بیعت کرنا آپ کو مبارک ہو۔بیعت کے بعد آپ اپنے ننھیال قصبہ مرالی والا ( ضلع گوجرانوالہ ) میں واپس آگئے اور مسجد میں قبول احمدیت کا اعلان عام کر دیا جس پر قصبہ میں شور پڑ گیا اور آپ کی زبر دست مخالفت شروع ہوگئی۔اہلحدیث مولویوں نے آپ کا بائیکاٹ کر دیا اور عوام کا لانعام اعلانیہ گالی گلوچ پر اتر آئے۔آپ رات کو بڑی دیر تک نماز تہجد پڑھتے اور اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کرتے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے رویا صالحہ کا سلسلہ جاری ہو گیا اور آپ کی روحانی تسلی کے لئے نئے سے نئے سامان ہونے لگے۔آپ نے مصمم ارادہ کر لیا کہ لوگ خواہ مجھے کتنی تکلیف پہنچائیں۔میں تبلیغ کرنا نہیں چھوڑوں گا۔احمدیت اختیار کرنے کے بعد آپ ایمان وعرفان میں جلد جلد ترقی کر رہے تھے اور آپ کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عشق و محبت بڑھتی جارہی تھی اور آپ دیوانہ وار تبلیغ میں مصروف ہو چکے تھے کہ اس دوران آپ کے ماموں نے جو آپ کے خسر بھی تھے غضبناک ہو کر آپ کو ڈانٹا اور دھمکی دی کہ یہاں سے خود بخود نکل جاؤ ور نہ میں تھانہ کے ذریعہ تم کو یہاں سے نکلوا دوں گا۔چنانچہ آپ مرالی والا کو چھوڑ کر اپنے آبائی گاؤں بقا پور میں تشریف لے آئے۔بقاپور میں آپ کا بائیکاٹ تو نہ ہوا کیونکہ آپ وہاں کے زمیندار تھے البتہ عوام اور مولویوں کی مخالفت شدید صورت اختیار کر گئی۔لوگوں کی مخالفت کے علاوہ بڑے بھائی کے سوا آپ کا پورا خاندان مخالف ہو گیا۔لیکن اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ ایک ماہ کے بعد آپ کی والدہ ماجدہ بھی احمدی ہو گئیں۔اور سوائے آپ کے والد صاحب کے آپ کا گھرانہ خاموش ہو گیا۔لیکن آپ نے زور وشور سے تبلیغ جاری رکھی۔آخر ایک سال کے اندر آپ کے والد صاحب اور چھوٹے بھائی اور دونوں بھاوجوں نے بیعت کر لی۔بڑے بھائی بھی حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں داخل احمدیت ہو گئے۔۱۹۰۵ء سے ۱۹۰۸ ء تک بقا پور میں مالی اور بدنی ابتلاؤں میں گزرے۔کئی کئی دن فاقہ کشی کرنا پڑی لیکن آپ کے جوش تبلیغ میں چنداں فرق نہ آیا۔۱۹۰۹ء سے ۱۹۱۴ء تک آپ سرگودھا کے چک نمبر ۹۸ ۹۹ میں قیام فرمار ہے اور ہر طرف گویا احمدیت کی دھوم مچادی۔آپ کی تبلیغ سے کئی جماعتیں قائم ہوئیں۔اکتوبر ۱۹۱۴ ء میں حضرت مصلح موعود نے بذریعہ ڈاک حکم دیا کہ آپ قادیان آ جائیں۔آپ حضور کی خدمت میں پہنچے تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ ترقی اسلام کے منتظم اعلیٰ مولوی شیر علی صاحب ہیں ان سے مل کر اپنے گزارے کے متعلق بھی بات چیت کر لیں۔آپ نے عرض کیا کہ ”جب مارچ ۱۹۰۵ء