تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 591
تاریخ احمدیت۔جلد 22 591 سال 1964ء قریب کیا جائے تاکہ میں حضرت صاحب کو نفل پڑھتے ہوئے دیکھوں۔انہوں نے حضرت صاحب کی چارپائی کے ساتھ میرا بستر بھی کروا دیا۔دو بجے رات کے قریب میں اٹھا اور باہر وضو کر نے چلا گیا۔وضو کر کے جب میں واپس آیا تو آگے میرے بستر پر حضور علیہ السلام نفل پڑھ رہے تھے مگر مجھے یہ معلوم نہ ہوا کہ یہ حضور علیہ السلام ہی ہیں۔میں نے ایک دوست سے ذکر کیا کہ دیکھو میری جگہ پر کوئی اور دوست آکر کھڑے ہو گئے ہیں اور میں نے بڑی مشکل سے یہ جگہ لی تھی۔تھوڑی سی دیر ہوئی تھی کہ حضرت صاحب نے مجھے فرمایا۔آئیے آپ اپنی جگہ پر بیٹھ جائے۔پھر مجھے معلوم ہوا کہ یہ حضرت اقدس علیہ السلام ہیں۔میں نے معذرت کی مگر حضور علیہ السلام نے مجھے پکڑ کر اس جگہ پر کھڑا کر دیا۔جب نفل پڑھ چکے تو مفتی صاحب نے پھر عرض کیا کہ حضور یہ قاضی حبیب اللہ صاحب ہیں۔حضور نے فرمایا کہ میں ان کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ان کو کتاب مواہب الرحمن نکال کر دو۔وہ کتاب انہی دنوں شائع ہوئی تھی۔فرمانے لگے۔قاضی صاحب اس کو آپ نے ضرور پڑھنا ہے۔اس میں چند پیشگوئیاں نئی ہیں۔میں نے کہا بہت اچھا حضور۔وہ کتاب مواہب الرحمن میرے پاس اب تک موجود ہے۔11 اولاد: سیدہ ہاجرہ بیگم صاحبہ سیدہ نصرت بیگم صاحبہ۔سیدہ سائرہ بیگم صاحبہ۔سیدہ فہمیدہ بیگم صاحبہ۔سید منصور احمد شاہ صاحب۔سیدہ اقبال بیگم صاحبہ ( والدہ مکرم سید مبشر احمد ایاز صاحب مربی سلسلہ )۔سیدہ ناصرہ بیگم صاحبہ - 12 حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری ولادت: اکتوبر ۱۸۷۳ء۔زیارت : ۱۸۹۱ء۔بیعت: مارچ ۱۹۰۵ء۔وفات : ۷ امارچ ۱۹۶۴ء۔حضرت مولا نا محمد ابراہیم صاحب کا خاندان فضیلت علم سے ہمیشہ مرقع رہا ہے۔جس میں کئی نامور علماء پیدا ہوئے۔آپ کے مورث اعلیٰ حافظ سعد اللہ صاحب اور نگ زیب عالمگیر کے درباری تھے۔ان کے بیٹے مولوی محمد سعید جالب کھو کھر جنہوں نے ۱۱۵۶ھ بمطابق ۱۷۴۳ء میں اپنے ننھیال موضع بقا پر ضلع گوجرانوالہ میں رہائش اختیار کر لی تھی، فقیہ عصر تھے۔انہوں نے ایک ہزار فقہی مسائل پر مشتمل ایک کتاب ہزاری کے نام سے تالیف کی تھی۔ان کے فرزند مولوی شیر محمد بھی مشہور عالم اور زمیندار تھے۔