تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 585
تاریخ احمدیت۔جلد 22 585 سال 1964ء مقدس شائع ہوتی تھی۔اس سے بہت محبت ہو گئی اور ہر وقت یہ جی چاہتا تھا کہ تازہ وحی سب سے پہلے مجھ کو معلوم ہو جائے۔پھر جلسہ پر دارالامان جانے لگا اور برابر جاتا رہا۔حضرت اقدس کو دعاؤں کے لئے خط لکھتا رہا۔ایک خط کا جواب حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنے دست مبارک سے دیا تھا وہ میرے پاس اب تک موجود تھا لیکن جب میرٹھ سے پنشن کے بعد ہجرت دارالامان کو کی تو کہیں کا غذات میں مخلوط ہو گیا یا ضائع ہو گیا۔آپ پینشن پانے کے بعد میرٹھ سے ہجرت کر کے قادیان تشریف لے آئے اور ایک عرصہ تک نائب ناظر دعوۃ و تبلیغ کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔تقسیم ملک کے بعد قادیان سے لاہور آئے۔پھر دادو ( سندھ) میں سکونت پذیر ہوئے۔یہاں سے نقل مکانی کر کے کراچی میں مستقل رہائش اختیار کر لی اور یہیں وفات پائی۔آپ خاندان میں ”میاں بھائی کے پیارے نام سے مشہور تھے۔حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر نے آپ کی وفات پر لکھا: ”میاں بھائی عرصہ دراز تک کلکٹر ضلع میرٹھ کے پیش کار رہے اور اپنی دیانت، حسنِ کارکردگی اور خلق اللہ کی ہمدردی کی وجہ سے بڑے نیک نام کثیر احباب اور مرجع خاص و عام تھے۔خوش پوش۔خوش قدر اعلیٰ درجہ کے مہمان نواز۔نماز تہجد کے ہمیشہ پورے پابند۔حلیم الطبع۔منکسر المزاج۔گفتگو میں نرمی اور متانت۔زبان پاکیزہ اور سلیس۔خداوند رائے و خداوند سخن خوب و شرم آدائے نرم چہرہ سرخ و سفید اور بہت دلکش۔آپ سے ملنے والا آپ کی نیکی اور شرافت سے ضرور متاثر ہوتا۔شکار کے شائق اور بندوق چلانے میں ماہر۔اس وجہ سے عمر کے آخری تین سالوں کے علاوہ آپ کی جسمانی صحت بہت عمدہ رہی۔آپ سلسلہ حقہ کے وفادار اور جانثار خادم رہے اور تمام حالات میں جو سلسلہ پر گزرے ثابت قدم اور مستقل۔CT۔۔۔۔۔۔۔مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ۔۔۔۔(الاحزاب :۲۴) مرحوم کی اولا د واصفا د اور باقیات صالحات اٹھتر افراد پر مشتمل ہے جو مختلف خاندان اور کنبے ہیں لیکن مرحوم کی نیکی اور محبت کی وجہ سے بفضل خدا یہ تمام کنبے آپس میں اتحاد و اتفاق کی نعمت سے بہرہ ور ہیں۔آپ حضرت شیخ محمد احمد مظہر صاحب کپور تھلوی کے خسر تھے۔