تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 586 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 586

تاریخ احمدیت۔جلد 22 586 حضرت میاں محمد الدین صاحب آف مانگٹ اونچا بیعت : ۱۸۹۸ء۔وفات ۲ جنوری ۱۹۶۴ء بعمر ۱۰۶ سال سال 1964ء حضرت میاں محمد الدین صاحب نے ۱۸۹۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔دعوت الی اللہ کا انتہائی جنون تھا اور مالی قربانیوں میں حتی المقدور حصہ لیتے رہے۔مکرم مولانا سلطان احمد صاحب پیر کوئی آپ کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: تبلیغ کا بہت شوق تھا۔خواہ کوئی ماتمی مجلس ہو یا شادی کی۔بڑوں کی مجلس ہو یا چھوٹی عمر والوں کی۔آپ تبلیغ کی کوئی نہ کوئی صورت نکال لیتے تھے اور کامیاب طور پر پیغام حق پہنچاتے تھے۔بڑے نڈر مبلغ تھے۔آپ ناخواندہ تھے لیکن دین کے سیکھنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے تھے۔کوئی عالم یا اپنے سے زیادہ دین کا علم رکھنے والا مل جائے۔اسے مختلف مسائل دینیہ سکھانے کی کوشش کرتے۔۔۔حضرت میاں محمد دین صاحب کے منجھلے بیٹے میاں فضل احمد صاحب مرحوم جو میرے بہنوئی تھے۔جب ۱۹۴۷ء میں وفات پاگئے تو ان کے بچے بہت چھوٹی عمر کے تھے۔جنکی آپ نے بڑھاپے کی عمر میں محنت کر کے پرورش کی اور تعلیم دلائی۔ہمیشہ ان کے سر پر دست شفقت رکھا۔بچوں کے جوان ہو جانے کے بعد بھی آپ ان کے ساتھ رہے اور انہوں نے بھی آپ کی بہت خدمت کی۔۔۱۹۶۳ء میں جب آپ اپنے پوتے عزیزم عنایت اللہ صاحب کے پاس کریم نگر (سندھ) میں مقیم تھے۔آپ نے وصیت کرنے پر اصرار کیا۔لیکن آپ اپنی زندگی میں اپنی زرعی جائیداد اپنے بچوں میں تقسیم کر چکے تھے۔عزیزم عنایت اللہ صاحب بہت حیران تھے کہ ان کی خواہش کو کس طرح پورا کرے۔میں بھی ان دنوں سندھ میں تھا۔مجھ سے ذکر کیا تو میں نے کہا کہ آپ ایک رقم ان کے لئے مخصوص کر دیں اور اسی پر آپ کی وصیت کرا دیں۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔کمزور تھے سفر نہیں کر سکتے تھے۔اتفاقاً آپ کا منجھلا ہوتا عزیز عبدالرشید مرحوم جلسہ سالانہ پر آنے کے لئے تیار ہوا تو آپ بھی اس کے ساتھ جلسہ سالانہ پر آگئے۔جلسہ سالانہ کے بعد اپنے بیٹے میاں نور احمد صاحب کے پاس مانگٹ اونچے گئے۔اور ۲ جنوری ۱۹۶۴ء کو وفات پا گئے۔جنازہ ربوہ لایا گیا۔اور وصیت ابھی منظور نہیں ہوئی تھی۔متعلقہ کارکن نے ممبران کے گھروں پر جا کر ان سے دستخط کرائے اور آپ بہشتی مقبرہ میں قطعہ صحابہ میں دفن ہوئے۔وفات کے وقت آپ کی عمر ۱۰۶ سال تھی۔