تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 584 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 584

تاریخ احمدیت۔جلد 22 584 سال 1964ء عرض کیا کہ یہ میرٹھ سے آئے ہیں۔اتنے میں خواجہ صاحب آئے ان کے ہمراہ اور کوئی صاحب بھی تھے۔میں نہ خواجہ صاحب سے واقف تھا نہ کسی اور دوست سے واقف تھا۔حضرت اقدس نے خواجہ صاحب سے مولوی نذیر احمد صاحب کے متعلق کچھ سوال کیا جو مجھ کو یاد نہیں۔نہ یہ یاد ہے کہ خواجہ صاحب نے کیا جواب دیا۔بہر حال خواجہ صاحب دن بھر کے حالات سناتے رہے۔تھوڑی دیر کے بعد کسی نے اذان و ہیں دیدی۔چبوترہ پر فرش بچھا دیا گیا اور نماز ظہر وعصر پڑھی گئی۔میں نے بھی نماز جماعت سے پڑھی۔صحیح یاد نہیں کس نے نماز پڑھائی۔نماز سے فارغ ہو کر حضور نے بیعت کے متعلق ارشاد فرمایا۔اس پر کسی نے زور سے کہا کہ جو دوست بیعت کرنا چاہتے ہوں وہ آگے آجائیں۔چنانچہ بہت سے دوست آگے ہوئے اور میں سب سے پیچھے رہ گیا۔حضور نے بیعت شروع کرنے سے قبل ارشاد فرمایا کہ جو دوست مجھ تک نہیں پہنچ سکتے وہ بیعت کرنے والوں کی کمر پر ہاتھ رکھ کر جو میں کہوں وہ الفاظ دہراتے جائیں۔میں اس وقت بھی خاموش الگ سب سے پیچھے بیٹھا رہا اور ہاتھ بیعت کرنے والوں کی کمر پر نہیں رکھا۔جب حضرت صاحب نے بیعت شروع کی تو میرا ہاتھ بغیر میرے ارادے کے آگے بڑھا اور جو صاحب میرے آگے بیٹھے ہوئے بیعت کے الفاظ دہرا رہے تھے ان کی کمر پر پہنچ گیا۔مجھ کو خوب یاد ہے کہ میرا ہاتھ میرے ارادے سے آگے نہیں بڑھا بلکہ خود بخود آگے بڑھ گیا اور پھر میں نے بھی الفاظ بیعت دوہرا نے شروع کر دئیے۔جب حضرت اقدس نے رَبِّ إِنِّي ظَلَمُتُ نَفسِی کی دعا کا ارشاد فرمایا۔سب نے اس کو دہرایا۔میں نے بھی دہرایا۔لیکن جب حضرت صاحب نے اس کے معنے اردو میں فرمانا شروع کئے اور بیعت کنندوں کو دہرانے کا ارشاد فرمایا۔میں نے جس وقت وہ الفاظ دہرائے تو اپنے گناہوں کو یاد کر کے سخت رقت طاری ہوگئی۔یہاں تک کہ اس قدر زور سے میں شیخ کر رونے لگا کہ سب لوگ حیران ہو گئے اور میں روتے روتے بے ہوش ہو گیا۔مجھ کو خبر ہی نہیں رہی کہ کیا ہو رہا ہے؟ جب دیر ہوگئی تو حضرت اقدس نے ارشاد فرمایا کہ پانی لاؤ۔وہ لایا گیا اور حضور نے اس پر کچھ پڑھ کر میرے اوپر چھڑ کا۔یہ مجھ کو خان صاحب سے معلوم ہو اور نہ مجھ کو کچھ خبر ہی نہ رہی تھی۔ہاں! اس قدر یاد ہے کہ حالت بے ہوشی میں میں نے دیکھا کہ مختلف رنگوں کے نور کے ستون آسمان سے زمین تک ہیں۔اس کے بعد مجھ کو کسی دوست نے زمین سے اٹھایا۔میں بیٹھ گیا مگر میرے آنسو نہ تھمتے تھے۔اس قدر حالت متغیر ہوگئی تھی کہ میرٹھ میں آکر بھی بار بار روتا تھا۔پھر خان صاحب موصوف نے میرے نام بدر ور یو یو جاری کرا دیا۔بدر میں حضرت اقدس علیہ السلام کی وحی