تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 44
تاریخ احمدیت۔جلد 22 44 سال 1963ء یہ ہے کہ ایسا کر کے عیسائیوں نے یسوع مسیح کی وہ بے ادبی کی ہے کہ دنیا میں کسی قوم نے بھی اپنے رسُول یا نبی کی نہیں کی ہوگی۔دوم۔آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ظہور کے وقت اکثر یہود اور نصاریٰ فاسق تھے جیسا کہ قرآن شریف بڑے واضح الفاظ میں گواہی دیتا ہے وَ اَكْثَرُهُمْ فَسِقُوْنَ (التوبه: ۸) سوم۔توریت کے پیش نظر صرف یہودی تھے اور اس کی تعلیم کی بھی تمام پرواز یہودیوں ہی کے سروں تک ہے۔لیکن وہ قانون جو عام عدل اور ہمدردی و احسان کے لئے دُنیا میں آیا وہ صرف قرآن شریف ہے۔اور وہ رسول صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمام عالموں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔چہارم۔اس سے بڑھ کر کوئی مقام نہیں کہ انسان خدا کا پیارا ہو جائے۔پس جس کی راہ پر چلنا انسان کو محبوب الہی بنا دیتا ہے۔اس سے زیادہ کس کا حق ہے کہ اپنے تئیں روشنی کے نام سے موسوم کرے۔اسی لئے اللہ جل شانہ نے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ”نور“ رکھا ہے۔عرصہ ہوا جب کہ یہ مدلل کتا بچہ ہمارے مطالعہ میں آیا تھا لیکن اس کے مطالعہ کی یہ لذت اور خوبی آج تک ہمارے قلب و ذہن پر مستولی ہے کہ اس کے مصنف نے ان سوالوں کے جواب میں جو زبان استعمال کی وہ سراسر انجیلی تھی۔ایسی کہ سطروں کی سطریں اور پیروں کے پیرے الزامی رنگ میں انا جیل ہی کے چلتے چلے جاتے تھے۔جو پڑھنے والے کو نہ صرف اس راز سے آگاہ کرتے تھے کہ عیسائیت کی اساس کیسے بودے دلائل پر ہے۔اس حقیقت سے بھی آشنا کرتے تھے کہ اسلام اور قرآن نے کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء کی عصمت کا تحفظ کیا ہے۔خاص طور پر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا۔چونکہ یہ تمام باتیں سچی ، مدلل ، حقائق سے معمور اور مسکت تھیں۔اس لئے اس کا نہ صرف ۱۸۹۷ء کی عیسائیت میں متعصب و متشد د حکومت نے کوئی نوٹس نہ لیا۔اس کے بعد بھی ( گو اس کے کتنے ہی ایڈیشن شائع ہوئے) کسی بھی عیسائی حکومت نے اس حق کو بالجبر دبانے کی کوشش نہ کی۔اور چونکہ ان جوابوں میں مستعمل مذہبی اصطلاحیں، بندشیں اور کہاوتیں ساری کی ساری توربیت وانا جیل سے اخذ کردہ تھیں۔اس لئے انہیں پڑھنے کے بعد دل آزاری کا تاثر ہرگز پیدا نہیں ہوا۔اور نہ کبھی کسی نے اس پر دل آزار تحریر ہونے کا فقرہ کسا کیونکہ یہ تو خود عیسائیوں ہی کی زبان تحریریں، روایتیں اور