تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 42
تاریخ احمدیت۔جلد 22 42 سال 1963ء اندریں حالات میں صحیح معنوں میں دلی طور پر التجا کرتا ہوں کہ آپ مفاد اسلام کی خاطر اس ایڈیٹر ”فللاسیا ۵۰۰ وکٹوریہ سٹریٹ سنگا پور نمبرے سارے معاملہ پر نظر ثانی فرمائیں۔میں ہوں جناب والا کا نہایت ہی مخلص مغربی پاکستان کے پریس کا احتجاج مورخه ۲۳ مئی ۱۹۶۳ء مغربی پاکستان کے مسلم پریس نے اس موقعہ پر غیرت ملتی ، دینی شعور اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہایت موثر اور زور دار رنگ میں صدائے احتجاج بلند کی اور سلطان کے سامنے حق بات کہنے کا حق ادا کر دیا۔ان میں سے بعض کے شذرات ہدیہ قارئین ہیں:۔(۱) ہفت روزہ لاہور اخبار ”لاہور ابتدا ہی سے حق و صداقت کے لئے سینہ سپر رہا ہے۔مغربی پاکستان کے اخباروں میں (اخبار الفضل کے بعد ) یہ پہلا اخبار تھا جس نے پوری غیرت مندی کے ساتھ حکومت کے اس ناروا اور غیر دانشمندانہ اقدام کا نوٹس لیا اور ۱/۲۹اپریل ۱۹۶۳ء کے پرچہ میں حسب ذیل ادار یہ شائع کیا۔لاہور کے مدیر جناب ثاقب زیروی صاحب نے اس اداریہ کے بعد رسالہ کی ۱۳مئی ۱۹۶۳ء کی اشاعت میں دوسرا ادار یہ لکھا نیز سرورق پر ضبطی کی دیگر از خبر پر ایک حقیقت افروز نظم بھی زیب قرطاس کی۔اخبار لاہور نے موہوم دل آزاری کی آڑ لے کر“ کے عنوان سے لکھا کہ:۔کہا جاتا ہے کہ پاکستان ایک مسلمان ملک ہے جس کا حکومتی مذہب اسلام ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اس کے قیام کا مطالبہ اسلام اور فروغ ثقافت و علوم اسلامیہ ہی کے لئے کیا گیا تھا۔دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کا آئین اس کے نظم و نسق کے قواعد وضوابط اور عدل وانصاف کے احکام وفرامین سب کے سب رُوح اسلام ہی کے مطابق ترتیب پاتے ہیں۔لیکن شاید یہ سب کچھ کہنے اور بتانے کے لئے ہے کیوں کہ اس دین فطرت سے محبت اور وارفتگی رکھنے والی نگاہ کو اب تک تو وطن عزیز میں ایسی کوئی قابل ذکر سرگرمی دکھائی نہیں دی۔سوائے اس کے کہ اہل ملک کے شدید احتجاج کے باوجود پاکستان کے اُن تعلیمی اداروں میں (جن کا اہتمام و انصرام عیسائی حضرات کے ہاتھوں میں ہے۔نئی پاکستانی