تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 41 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 41

تاریخ احمدیت۔جلد 22 41 سال 1963ء بذریعہ تار عرضداشت بھیجی کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب (علیہ السلام) کی کتاب پر حکومت مغربی پاکستان کی طرف سے عائد کردہ پابندی کو اٹھانے کا حکم صادر فرمائیں۔☆ وہ سنگاپور کے ایک غیر از جماعت دردمند مسلمان نے حسب ذیل احتجاجی مکتوب صدر پاکستان کی خدمت میں لکھا:۔صدر والا قدر مجھے یہاں سنگا پور میں اتفاقیہ طور پر اپنے بعض احمدی دوستوں سے یہ معلوم ہوا ہے کہ حکومتِ مغربی پاکستان نے سلسلہ احمدیہ کی مشہور ومعروف کتابوں میں سے ایک کتاب کو ضبط کر لیا ہے۔اور وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس کے مندرجات اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایسے ہیں کہ جن سے پاکستان میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان نقض امن کا احتمال ہے۔میں احمدی نہیں ہوں نہ ہی میں کوئی مذہبی عالم ہوں اس لئے میں پورے طور پر اس کا اہل نہیں ہوں کہ میں حتمی طور پر یہ کہہ سکوں کہ آیا فی الواقعہ کتاب کے مندرجات امن اور خوشحالی کے مفاد کو نقصان پہنچانے والے ہیں۔تاہم جہاں تک میرے ذاتی علم کا تعلق ہے کتاب میں توحید باری تعالیٰ سے متعلق اسلام کی پیش کردہ تعلیم کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔میں احمدیوں اور ان کی تحریک سے اچھی طرح واقف ہوں اور جانتا ہوں کہ وہ قانون کی پابندی اور اس کا احترام کرنے والے امن پسند لوگ ہیں اور یہی حال ان کے لٹریچر کا ہے۔ان حالات میں میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کس طرح وہ لٹریچر جو گذشتہ ساٹھ سال سے بھی زائد عرصہ سے شائع ہوتا چلا آ رہا ہے اور جو عملاً مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان کسی قسم کی منافرت پھیلانے کا موجب نہیں بنا ہے اسے یکا یک ایک ایسا آلہ کار قرار دیا جائے کہ جس سے دو مذاہب کے ماننے والوں میں مخاصمت کی آگ بھڑک سکتی ہو۔آج دنیا بھر کے مسلمانوں کی نگاہیں پاکستان کی طرف اٹھتی ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے یعنی ایسی مملکت ہے جو حقیقی معنوں میں اسلامی عقائد اور ثقافت کی علمبردار ہے۔ان حالات میں قدرتی طور پر ہر شخص یہی توقع کرے گا کہ وہاں اس نوعیت کی کتاب کو بہت پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیئے بالخصوص یہ توقع اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کتاب توحید باری تعالیٰ سے متعلق عیسائیوں کے اعتراضات کے جواب پر مشتمل ہے۔