تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 552
تاریخ احمدیت۔جلد 22 552 سال 1964ء حل کے لئے وہ حیران و پریشان ہے ان کا تقاضہ یہ ہے کہ اعلیٰ صلاحیتوں کے بچے دین کی خدمت کے لئے آگے آئیں محض دنیوی علوم سیکھنے کی بجائے وہ جامعہ میں داخل ہو کر دینی علوم سے بھی اپنے آپ کو مزین کریں اور پھر مبشرین اسلام کی حیثیت سے مغربی اقوام کو حق و صداقت کا وہ راستہ دکھا ئیں جس پر گامزن ہو کر ہی وہ اپنی موجودہ مشکلات کو حل کرنے پر قادر ہو سکتے ہیں۔تبشیر کا کام اس صورت میں بطریق احسن انجام پائے گا کہ چوٹی کے آدمی آگے آئیں جو خود دین سیکھیں اور پھر دنیا کو دین سکھا کر اس کی مشکلات کو حل کریں۔122 خلافت ثانیہ کے عہد مبارک کے آخری سالانہ جلسے اب ہم واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے خلافت ثانیہ کے عہد مبارک کے آخری جلسہ سالانہ قادیان در بوہ تک آپہنچے ہیں۔جلسه سالانه قادیان شمع احمدیت کے دو ہزار پروانوں کے اس روح پرور اجتماع میں بھارتی احمد یوں کے علاوہ دوسو پاکستانی زائرین بھی شامل ہوئے۔جو ۲۰،۱۹،۱۸ دسمبر ۱۹۶۴ء کو منعقد ہوا۔سید نا حضرت مصلح موعود نے اس جلسہ سالانہ کے لئے حسب ذیل پیغام ارسال فرمایا جو امیر قافلہ چوہدری اسد اللہ خاں صاحب نے پڑھ کر سنایا:۔اللہ تعالیٰ آپ سب کا قادیان میں جمع ہونا مبارک کرے۔میرا پیغام آپ کے لئے یہی ہے کہ اپنے نمونے سے دنیا کو احمدیت کی طرف کھینچیں۔اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔حسب معمول افتتاحی اجلاس کی صدارت کے فرائض الحاج حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب فاضل امیر جماعت احمدیہ قادیان نے انجام دیئے اور لوائے احمدیت لہرایا۔خلافت ثانیہ کے عہد مبارک کے اس آخری جلسہ سالانہ کی مقدس تقریب میں حسب ذیل تقاریر ہوئیں:۔ا۔افتتاحی خطاب (حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل ) ۲ موعودا قوام عالم (مولوی بشیر احمد صاحب دہلوی)۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں (مولوی محمد کریم الدین صاحب شاہد مبلغ سرینگر )