تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 544 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 544

تاریخ احمدیت۔جلد 22 544 سال 1964ء کامیابی پر خوشی منارہے تھے۔یاد گیر کے ایک مخلص اور قابل رشک نو جوان سیٹھ محمد عبداللطیف صاحب ابن سیٹھ محمد عبدالحی صاحب مرحوم آف یاد گیر کی وفات کی خبر آ گئی۔تمام دوستوں کو سخت صدمہ ہوا۔جو مرحوم کے قریبی رشتہ دار تھے۔انہیں تو اسی وقت یاد گیر جانے کی اجازت دے دی گئی۔یہ تبلیغی جد و جہد جو ۲۸ نومبر کو شروع کی گئی تھی۔نہایت خیر و خوبی سے ۴ دسمبر کو پایہ تکمیل تک پہنچ گئی۔اس کارخیر میں چند غیر از جماعت دوستوں نے بھی میرے ساتھ بہت تعاون کیا۔خدا انہیں جزائے خیر دے۔یہ چند دن جیسی خوشی اور چہل پہل کے تھے خدا ہمیشہ ایسے دن دکھائے۔صبح سویرے سے دوستوں کا کتابوں پر مہریں لگانا۔کتابوں کا شمار کرنا۔ڈیوٹی تقسیم کرنا اور پھر ڈیوٹی پر جانا۔کتنا دلچسپ مشغلہ تھا۔پھر میں نے یہ محسوس کیا کہ ہر کس و ناکس کے ہاتھ میں کتا بیں دے دینا تو چنداں دشوار نہیں لیکن چیدہ چیدہ افراد کو ڈھونڈنا ، ان کو کتابیں دینا اور ان کے سوالات کا جواب دینا بہت دشوار کام ہے۔اس کے لئے ہمت اور استقلال کے علاوہ وقت بھی چاہئے اور یہ خدا کا فضل ہے۔ہمارے خدام انتھک کوشش اور برق رفتاری سے معلوم کرتے رہے اگر خدا انہیں یہ حوصلہ نہ دیتا تو اتنے وسیع پیمانہ پر لاکھوں آدمیوں کو یہ مذہبی تحفہ نہیں دیا جا سکتا تھا۔ہم کو کانفرنس کے منتظمین سے جو شکایت ہے اس کے خلاف بعض اخبارات میں میرے خطوط شائع ہو چکے ہیں۔ہم اس تحریر کے ذریعہ پھر اس کے رویہ پر اظہار افسوس کرتے ہیں۔ہمیں نہ بک اسٹال دیا گیا۔نہ ایڈیٹر آزاد نوجوان کو پریس انٹرویو کی اجازت دی گئی۔نہ پوپ سے جماعت احمدیہ کی ملاقات کا بندو بست کیا گیا۔ہم اخبار والوں کے مشکور ہیں جنہوں نے ہمارے ساتھ ہر وقت تعاون کیا۔اور ہمارے خدام کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔محکمہ پولیس نے شروع سے اخیر تک ہمارے خدام کو جس آزادی سے لٹریچر تقسیم کرنے کی اجازت دی۔ہم اس پر اس کے مشکور ہیں اور اس عادلانہ ومنصفانہ سلوک پر ہم اس کو مبارکباد دیتے ہیں۔ہماری تبلیغی جد و جہد کا ایک دور ختم ہو گیا۔اب اس کے خوشگوار نتائج کا انتظار ہے۔اس مہم کے بعد کیا اخبارات اور کیا عوام سبھوں کا احمدیہ مسلم مشن بمبئی کی طرف رجوع ہو گیا ہے۔روزانہ نئے نئے لوگ ملاقات کے لئے آرہے ہیں۔ذوق و شوق سے کتابیں لے جا رہے ہیں۔ابھی مسیحی مبلغین کے