تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 543 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 543

تاریخ احمدیت۔جلد 22 543 سال 1964ء نڈھال ہو کر گر پڑے۔منہ اور ناک سے خون بہنے لگا پھر وہ جیپ میں گھس گئے اور اسے کافی نقصان پہنچایا۔یہ حالت دیکھ کر بعض دوست ما ہم پولیس اسٹیشن گئے اور پولیس کی مدد لے کر آئے۔میں اس وقت اول میدان میں پوپ کا استقبال کر رہا تھا مجھ کو اس واقعہ کی اطلاع رات کے 9 بجے بمبئی سنٹرل کے پاس ہوئی۔میں اسی وقت ایک غیر احمدی دوست سیٹھ عبداللطیف صاحب کو لے کر جائے واقعہ کی طرف چل پڑا۔سیٹھ محمد معین الدین صاحب، ایڈیٹر صاحب آزاد نو جوان اور دوسرے احباب بھی ٹیکسیوں میں چلے۔تاہم پولیس اسٹیشن پہنچا تو جیپ وہاں کھڑی تھی اور ایک کانسٹیبل اس کی مرمت کر رہا تھا۔سارے دوست خیریت سے تھے۔سب کو دار التبلیغ لے آیا۔میرے نزدیک اس واقعہ کی کوئی اہمیت نہ تھی۔راہ خدا میں ایسے صدمے سہنے ہی پڑتے ہیں مگر یہاں بات وہی ہوئی کہ عدو شر برانگیزد که خیرما در آن باشد صبح کو مرہٹی زبان کے سب سے کثیر الاشاعت روزنامہ ” مراٹھا نے اور اردو اخبار ” قیادت نے بہت نمایاں طور پر یہ خبر شائع کر کے عیسائیوں کے رویے کی مذمت کی۔اس کے بعد فری پریس بلیٹن اور دوسرے چھ روز ناموں میں اس واقعہ کی پوری تفصیل شائع ہوگئی۔بعض اخبار فروشوں نے تو یہ نعرہ لگا کر سنسنی پھیلا دی کہ عیسائیوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا‘ ان اخباروں میں ہمارے عقیدہ وفات مسیح کا ذکر بھی آ گیا۔اس واقعہ کے بعد پولیس ہوشیار ہو گئی۔چرچوں کے پاس پہرے بٹھا دیئے گئے لیکن ہماری تبلیغی آزادی میں کوئی خلل نہیں ڈالا گیا۔چنانچہ ۲ دسمبر کو ہمارے یہ زخم خوردہ جواں زیادہ ہمت، استقلال اور مستعدی سے میدان جہاد میں آئے۔آج تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ ہر شخص سے کتابیں پڑھوا کے دم لیں گے۔اس دن میں خود شروع سے اخیر تک ان خدام کے ساتھ رہا اور حالات کا مطالعہ کرتا رہا۔66 دسمبر کو قبر مسیح (انگریزی) کی تحفہ لوگوں کو دے دینے کی باری تھی۔مگر آج یوکریسٹک کانگریس کی رونق ختم ہو گئی تھی۔حاضرین کی تعداد بھی بہت کم تھی۔اس لئے آج نسبتا ایسے اشخاص کم کم ملے جنہیں کتا بیں دی جاسکیں۔پھر بھی اس دن چار ہزار سے زیادہ آدمیوں کو پیغام احمدیت پہنچا دیا گیا۔آج ہی جماعت احمدیہ کی تبلیغی جد و جہد ختم ہونے والی تھی۔۵ دسمبر کے لئے احباب کی واپسی کے لئے مختلف ٹرینوں میں سیٹیں ریزرو تھیں۔لیکن افسوس کہ ٹھیک اس وقت جب ہمارے خدام اپنی