تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 542
تاریخ احمدیت۔جلد 22 542 سال 1964ء ہمارے پاس جو کتا بیں تھیں ان کے دو حصے کر دیئے گئے۔اول عام عقائد وتعلیمات کی کتب اور دوم وہ کتابیں جن کا عنوان وفات مسیح ہے۔پہلے دن تجربہ کے طور پر عام عقائد وتعلیمات کی کتابیں تقسیم کی گئیں۔اور چار دنوں تک یہی کتا میں تقسیم ہوتی رہیں۔اس اثناء میں عیسائیوں اور بعض دوسرے اشخاص کی طرف سے پولیس پر دباؤ ڈالا گیا کہ ہماری یہ جد و جہد ممنوع قرار دی جائے۔مگر پولیس کی طرف سے ہم لوگوں کو تقسیم کتب کی اخیر تک مکمل آزادی رہی۔۲۹ نومبر کو انڈین ایکسپریس میں ہمارے خدام کی تبلیغی جد و جہد اور ایک پمفلٹ اسلام امت کی پکار“ (انگریزی) کے تقسیم کئے جانے کی اس کے رپورٹر نے مؤثر الفاظ میں خبر دی۔۳۰ /نومبر کو میں نے اخبارات کے ایڈیٹروں کو ان کتابوں کے ایک ایک سیٹ بھیجے جو ان دنوں تقسیم کی جا رہی تھیں۔یکم دسمبر کو ان میں سے چھ اخباروں نے نہایت نمایاں طور پر یہ خبر شائع کی۔چار دنوں میں ساٹھ ہزار سے زیادہ تحفہ دے چکے تھے اور شہر کے گوشہ گوشہ میں اس تبلیغی جد و جہد کی دھوم مچ گئی تھی۔عوام کے علاوہ پولیس کے آفیسر بار بار دار التبلیغ آکر حالات دریافت کرتے اور تازہ معلومات لے جاتے تھے۔۲ دسمبر کو شام ۵ بجے پاپائے اعظم آنے والے تھے۔سارا شہر امڈ کر ہوائی اڈے کی طرف چلا گیا تھا۔اور یہ اتفاق دیکھئے کہ اس دن ہم بھی وہ کتا بیں شائع کرنے والے تھے جن کا عنوان ہی وفات مسیح ہے۔اس دن دس خدام کی ڈیوٹی ہوائی اڈے پر لگائی گئی تھی۔یہ جیپ میں لٹریچر بھر کے بعد زوال اپنی ڈیوٹی پر چل پڑے۔چار خدام کی ڈیوٹی اہم اور باندرہ میں تھی جہاں عیسائیوں کی معتد بہ تعداد رہتی ہے۔آج پہلا دن تھا کہ ایک نا خوشگوار واقعہ پیش آیا۔ہمارے جو خدام ما ہم اور باندرہ میں متعین تھے ان کے ساتھ عیسائیوں نے زیادتی کی۔دو چار گھونسے اور مکے بھی چلائے۔ہمارے یہ خدام تو فتنے کی اس جگہ سے ہٹ گئے۔لیکن تھوڑی دیر کے بعد اس جگہ ہمارے جوانوں کی دوسری پارٹی آئی۔یہ وہی پارٹی تھی جو ہوائی اڈے پر متعین تھی۔یہ حالات سے بے خبر تھے۔ان میں سے بھی ایک شخص نے جب وہ کتا بیں تقسیم کیں تو یہ دیکھ کر عیسائیوں کے ایک گروہ نے ان خدام پر حملہ کر دیا۔اس پارٹی میں میرے دونوں لڑکے بھی تھے۔یہ حملہ ہوتے ہی اکثر دوست تو تھوڑی بہت مار کھاتے ہوئے مجبوراً جیپ سے نکل کر چلے گئے۔مگر حیدر آباد کا ایک نوجوان مکرم یوسف حسین ابن احمد حسین صاحب نائب امیر جماعت حیدرآباد جیپ میں رہ گئے۔ان شر پسند عناصر نے انہیں خوب زدوکوب کیا۔حتی کہ وہ