تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 540
تاریخ احمدیت۔جلد 22 540 سال 1964ء کوشش کی کہ سپاسنامے کی ایک کاپی اس کے ہاتھ آ جائے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چرچ کے حلقے میں یہ بات خوب مشہور ہو گئی۔اخبارات نے نمایاں طور پر خبر چھاپنی شروع کر دی۔یہ صورت حال دیکھ کر بہت سے عیسائی فکرمند ہو گئے مگر پولیس کی طرف سے ہم کو اتنی آزادی تھی کہ جلسہ گاہ کو چھوڑ کر اس کے فٹ پاتھ پر بھی ہمارے خدام کتابیں دے رہے تھے۔چنانچہ بشپ، آرچ بشپ اور کارڈینل کے عہدوں پر جو لوگ فائز تھے اور مخصوص نشستوں پر بیٹھتے تھے انہیں یہیں ان کتابوں کے سیٹ پیش کیے گئے ان میں سے اکثر نے شکریہ کے ساتھ یہ کتابیں قبول کیں۔محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ناظر دعوت و تبلیغ نے اس بین الاقوامی اجتماع کو جو ایشیا میں اپنی نوعیت کا پہلا اجتماع تھا۔پیغام اسلام پہنچانے کے لئے جس اولوالعزمی اور حوصلہ مندی سے کام کیا اس پر آپ ہزار ہزار تحسین و ستائش کے مستحق ہیں۔سپاسنامے کا ذکر تو پہلے آچکا ہے اس کے علاوہ آپ نے ایک لاکھ سے زیادہ کتابیں ہدیہ اور تحفہ کے طور پر دینے کے لئے بھیجیں۔جن میں عام اسلامی عقائد و تعلیمات کے علاوہ وفات مسیح کے موضوع پر بھی پچاس ہزار سے زائد کتب تھیں۔اس نا قابل فراموش کارنامہ کے انجام دینے میں جناب سیٹھ محمد صدیق صاحب بانی آف کلکتہ اور محترم جناب میاں محمد عمر ومحترم محمد بشیر صاحبان سہگل آف کلکتہ کے فراخدلانہ مالی عطایا کے علاوہ جنوبی ہند کی بعض جماعتوں نے حضرت صاحبزادہ صاحب کے ساتھ خوب تعاون کیا۔چنانچہ جماعت احمد یہ حیدر آبا دوسکندرآباد نے وفات مسیح پر ایک پمفلٹ Latest Findings About Jesus ( مسیح کے متعلق نئے انکشافات ) نہایت دیدہ زیب کا غذ و طباعت کے ساتھ میں ہزار سے زیادہ تعداد میں چھپوائے۔جن میں سے ساڑھے سترہ ہزار اس اجتماع کے لئے بھیجے گئے۔دوسرا پمفلٹ جماعت احمدیہ کنانور نے Present To Pope کے نام سے پانچ ہزار کی تعداد میں طبع کرایا۔ان دونوں کتابوں کا مضمون ایک ہی تھا۔ان میں جناب مسیح کے تینوں دور زندگی کے تین فوٹو بھی ہیں یعنی جوانی، ادھیڑ اور بڑھاپے کے۔جو انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا نے شائع کئے ہیں۔اور بھی بعض جدید معلومات ہیں۔اس کے علاوہ نظارت دعوت و تبلیغ قادیان نے اس موضوع پر مندرجہ ذیل کتب ہزاروں کی تعداد میں بھیجیر صحیح ہندوستان میں (انگریزی) مسیح نے کہاں وفات پائی (انگریزی)۔قبری (انگریزی)