تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 539
تاریخ احمدیت۔جلد 22 539 سال 1964ء 117 اٹھاتے ہوئے اس امید اور یقین کے ساتھ آپ کی خدمت میں کچھ احمد یہ لٹریچر پیش کرتے ہیں کہ اگر آپ بخوشی اسکے مطالعہ کیلئے وقت نکالیں گے تو آپ یہ محسوس کریں گے کہ اسلام کا وہ سچا پیغام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اس زمانہ میں دنیا کو دیا گیاوہ موجودہ زمانہ کی تمام بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے کیونکہ وہ تمام بنی نوع انسان کو ایک عالمی سطح پر مخاطب کرتا ہے اور توحید باری تعالیٰ، عالمی مساوات اور زندگی کی تمام قدروں میں بیجہتی افعال و کردار کا درس دیتا ہے۔تمام تعریف خدا کے لئے ہے جو ہم سب کا آتا ہے۔نیک خواہشات کے ساتھ آپ کا مخلص۔مرزا و تیم احمد خیال تھا کہ جب کیتھولک دنیا کے دینی پیشوا سے ملاقات ہوگی تو آپ (صاحبزادہ صاحب) یہ سپاسنامه خود پیش فرمائیں گے۔اس ملاقات کے لئے مولوی سمیع اللہ صاحب مبلغ جماعت احمدیہ بمبئی نے سرتوڑ کوشش کی مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔منتظمین کی سرد مہری کے باوجود جماعت احمدیہ نے جس ذوق و شوق اور ولولہ انگیز طریق سے اس موقعہ پر اسلام کی تبلیغ واشاعت کا فریضہ انجام دیاوہ بھارت کی مذہبی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے جس کی ایمان افروز تفصیلات جناب مولوی سمیع اللہ صاحب کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہیں۔آپ تحریر فرماتے ہیں:۔” جماعت احمدیہ نے جب یہ دیکھا کہ پاپائے اعظم سے ملاقات کا وقت نہیں دیا گیا۔بلکہ وہ جگہیں جہاں جہاں ٹھہرائے گئے ہیں وہاں جانے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی تو اس جماعت نے پیغام اسلام پہنچانے کا اب دوسرا بندو بست کیا۔ہم نے اپنے خدام کی چن چن کر ایسی گذرگاہوں پر ڈیوٹی لگائی جہاں سے ملکی و غیر ملکی مہمان بکثرت گزرتے تھے۔جومند و بین بحری جہازوں میں مقیم تھے ان کے لئے بندرگاہ کے ان گیٹوں پر ڈیوٹی لگائی گئی جو ان کے آنے جانے کا راستہ تھا۔اسی طرح بڑے بڑے ہوٹلوں کے فٹ پاتھ پر خدام متعین کر دیئے گئے۔اکثر چر چوں اور ہوٹلوں کے سامنے بھی خدام موجود ہوتے تھے۔پھر ” اول میدان کے چاروں طرف جہاں بے شمار خلقت جمع ہوتی تھی وہاں بھی اپنے خدام ہر وقت موجود رہتے تھے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شاید ہی کوئی ملکی یا غیر ملکی مندوب ہو گا جس کے ہاتھ میں جماعت کا لٹریچر نہ پہنچا ہو۔لوگ کثرت سے خود مانگ مانگ کر لیتے تھے۔اور دو دو چار چار آدمی مل جل کر پڑھتے تھے۔جس دن سپاسنامے کی عام اشاعت ہوئی اس دن پادریوں کا ذوق وشوق قابل دید تھا۔ہر پادری نے