تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 536
تاریخ احمدیت۔جلد 22 536 سال 1964ء لیکن اس دور میں موجود نہیں۔زندہ خدا دنیا کے لئے ہمیشہ زندہ ہے اور اس کی ہستی ہر قسم کے نقائص اور زمان و مکان کی قیود سے بالا تر ہے۔اس کی صفات جاودانی اور اس کی قدرتیں دائمی ہیں۔وہ اپنے ا پرستاروں کی تفرعات کو سنتا ہے اور اُن سے ہر زمانہ میں کلام کرتا ہے۔انبیاء اسی غرض کے لئے مبعوث ہوتے رہے۔تا کہ وہ دنیا میں روحانیت کو جاری کریں۔بھولی بھکی مخلوق کو خدا کے آستانہ پر جمع کریں۔اور خالق و مخلوق کا روحانی رشتہ قائم کریں۔یہ وہ انعام ہے جس کا وعدہ اسلام اپنے پیروؤں سے کرتا ہے اور یہی وہ انعام ہے جس کا وعدہ یسوع مسیح نے اپنے سچے پیروؤں سے کیا تھا۔وہ خدا جسے اسلام پیش کرتا ہے زندہ خدا ہے اور یہی وہ خدا ہے جو عہد ماضی میں انبیاء سے کلام کرتا رہا اور جو اپنے منتخب بندوں سے کلام کرتا ہے۔جو اس کی آواز کو سنتے ہیں اور الہامات و مکاشفات کی برکات سے مستفیض ہوتے ہیں۔اس صورت میں ہر عقلمند شخص یہ سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ موجودہ زمانہ کا کلیسا حضرت مسیح علیہ السلام کی صحیح نمائندگی نہیں کر رہا اور میں تو یہاں تک کہہ سکتا ہوں کہ اگر مسیح اس دنیا میں ہوتے تو وہ ہرگز یہ باور نہ کرتے کہ اس دور کے عیسائی ان کے حقیقی پیرو ہیں۔کیونکہ وہ ان عقائد و اعمال سے منحرف اور برگشتہ ہو چکے ہیں جس کی تعلیم انہیں ابتداء میں دی گئی تھی۔آج سے تقریباً چودہ سوسال قبل اسلام نے اسی انحراف و برگشتگی کو قرآن کریم کے ذریعہ دنیا پر منکشف کیا اور بتایا کہ مسیح تو دنیا ایک انسان اور خدا کے نبی تھے اور انہوں نے دنیا میں ایک انسان کی مانند ہی زندگی بسر کی اور وفات پائی۔انہوں نے دنیا کو تو حید کی تعلیم دی۔اور یہ کبھی نہیں کہا کہ ان کی یا ان کی بزرگ والدہ کی پرستش کی جائے۔بلکہ انہوں نے یہ تعلیم دی کہ گناہوں کی بخشش تو بہ واستغفار اور عبادات اور اعمال صالحہ سے ہی ممکن ہے۔ہم برائے موازنہ یہ قبول کرنے کیلئے تیار ہیں کہ موجودہ دور کے مسلمانوں کی حالت عیسائیوں سے زیادہ بہتر نہیں ہے۔اور حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنا حقیقی پیرو قبول نہیں کر سکتے۔لیکن یہ موازنہ تو اسی جگہ ختم ہو جاتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی ایک امتیازی نکتہ سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں کی اس بدحالی اور بے کسی کے دور میں اسلام میں ایک عجیب وغریب انقلاب رونما ہوا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق ایک شخص خدا تعالیٰ کی جانب سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے مامور کیا گیا جس نے دنیا کو دکھایا کہ آج بھی خدا تعالیٰ اسلام کے پیروؤں میں سے ایسی ہستیاں منتخب کرتا ہے جن کے ساتھ وہ بذریعہ الہام کلام کرتا ہے۔یہ وجود