تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 537
تاریخ احمدیت۔جلد 22 537 سال 1964ء حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کا وجود تھا۔جنہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا۔آپ نے حضرت مسیح ناصری علیہ الصلوۃ والسلام کی خُو بو میں مبعوث ہو کر مسیحیوں کے غلط عقائد کی اصلاح فرمائی۔اور مسلمانوں کو راہ حق بتلائی۔آپ نے تمام بنی نوع انسان کو حق و صداقت کے راستہ پر چلنے کے لئے دعوت دی۔آپ کی بعثت کی غرض و غایت تمام سابقہ انبیاء بشمول عیسی ، موسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کی اغراض کی تکمیل و تجدید تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام میں تحریک احمدیت کا قیام آج سے تقریباً ۷۵ سال قبل فرمایا تھا اور اس وقت آپ کے روحانی جانشین حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی کی قیادت میں تمام دنیا میں مختلف مقامات پر اسلامی مرکز قائم ہو چکے ہیں اور دنیا کو وسیع پیمانہ پر اسلام سے روشناس کرایا جارہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کو بتایا کہ حضرت مسیح ناصری علیہ الصلوۃ والسلام ان تمام امور سے نفرت کرتے تھے جو مسیحیوں نے ان کی ذات سے غلط طور پر منسوب کئے ہیں۔یعنی یہ تعلیم کہ وہ ما فوق البشر یا کسی رنگ میں خدائی صفات کے مظہر تھے۔یا یہ کہ انہوں نے عقیدہ تثلیث، نجات ، فرزندیت یا صلیبی موت کی مروجہ تعلیم دی یہ تمام باتیں دراصل بعد میں ان کی طرف منسوب کی گئی ہیں۔اس بات کا بیان کرنا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کشفی طور پر حضرت مسیح ناصری سے ملاقات کی اور کشف میں آپ کی تعلیم کے متعلق دریافت فرمایا۔تو حضرت مسیح ناصری نے زمین کی طرف اشارہ کیا۔جس سے آپ کا مفہوم یہ تھا کہ وہ دیگر انسانوں کی طرح ایک کمزور انسان تھے۔اور ان تمام غلط عقائد سے اپنے آپ کو بری قرار دیتے ہیں۔جو آپ کی وفات کے بعد آپ کے ماننے والوں نے آپ کی طرف منسوب کئے۔دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا آج کا کلیسا اس قابل ہے کہ وہ مذہب کے اس صحیح روحانی فیض کو جاری کر سکے۔اور کیا کلیسا کا کوئی پیروکار آج اس بات کا دعویدار ہوسکتا ہے کہ وہ خدا کے تازہ الہام و کلام سے مشرف ہے۔اگر کلیسا مذہب کے اس بنیادی انعام سے مستفیض نہیں کراتا۔یا خالق ومخلوق کے رشتہ کی اس معیاری کسوٹی پر پورا نہیں اتر تا جو کہ مذہب کی اصل غرض و غایت ہے تو انجام کا رامیدوار نگاہیں کلیسا سے ہٹ کر کسی ایسی حقیقت کی متلاشی ہونگی جو اس روحانی انعام کی وارث ہیں۔