تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 532
تاریخ احمدیت۔جلد 22 532 سال 1964ء می محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ خاکسار کے اس خط کی وجہ سے شمالی نائیجیریا کے مسلمانوں میں اس بات کا احساس پیدا ہو گیا کہ عدالتی کارروائی میں یہ ایک اہم تبدیلی ہے جو ضرور کروانی چاہیئے۔چنانچہ اسی سال (۱۹۴۹ء) کے دسمبر میں شمالی نائیجیریا کی اسمبلی میں یہ سوال پیش ہوا۔جس نے یہ قرارداد پیش کی کہ شمالی نائیجیریا کے لئے ایک مسلم کورٹ آف اپیل کا قیام عمل میں لایا جائے اس عدالت کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو ویسٹ افریقن کورٹ آف اپیل کو حاصل ہیں۔قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ مجسٹر یٹی عدالتیں، سپریم کورٹ اور ویسٹ افریقن کورٹ آف اپیل کو آئندہ اسلامی قانون والی عدالتوں کے فیصلہ پر اپیل کے سلسلہ میں کوئی حق نہ ہونا چاہیئے۔لیکن اس قرار داد کے نتیجہ میں صرف ایک کمیشن بٹھا دیا گیا جس کا کام یہ تھا کہ اس کے تمام پہلوؤں پر غور کر کے رپورٹ پیش کرے۔بہر حال یہ امر خاکسار کے لئے از حد خوشی کا باعث تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میری تجویز کو قبولیت بخشی اور اس سوال کو اسمبلی میں اٹھوا دیا۔اس کے بعد مارچ ۱۹۵۶ء میں شمالی نائیجیریا کی اسمبلی میں پھر یہ معاملہ پیش ہوا۔ڈیلی ٹائمنز نے (۵۶-۳-۱۲) اس خبر کو یوں شائع کیا:۔شمالی علاقہ کیلئے مسلم اپیل کورٹ کا مطالبہ ہفتہ کے روز شمالی نائیجیریا کے ہاؤس آف اسمبلی نے ایک ایسے بل پر بحث کی جس کا مقصد اسلامی قانون والی عدالتوں کے فیصلوں کے لئے ہائیکورٹ آف اپیل کا قیام ہے۔بورنو (BORNU) کے نائب حاکم (وزیر) نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اسلامی قانون کو صحیح معنوں میں رائج کیا جا سکے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ انہیں وہ وقت خود یاد ہے جبکہ چند سال ہوئے ایک برطانوی قانون والی عدالت کے ایک حج کے ہمراہ دو اسلامی قانون والے حج بھی فیصلہ کے لئے بیٹھے تھے اور اس ایک جج نے اسلامی قانون کے سلسلہ میں ان دو (مسلمان ) جوں کی بات رڈ کر دی تھی اور مقدمہ کے فیصلہ کے لئے برطانوی قانون کو ترجیح دی تھی۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے شمالی نائیجیریا میں اسلامی قانون کی عدالت عالیہ بھی قائم ہو چکی ہے۔اور یہ بات خاکسار کے لئے خاص طور پر خوشی کا باعث ہے۔کیونکہ آج سے کئی سال پہلے سب پہلے خاکسار ہی نے اس ضرورت کی طرف نائیجیریا کے مسلمانوں کو توجہ دلائی تھی" 116-