تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 514 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 514

تاریخ احمدیت۔جلد 22 514 سال 1964ء جناب اختر حسین صاحب صدر انجمن ترقی اردو نے اپنے پیغام میں کہا کہ :۔مجھے یہ جان کر بے انتہا مسرت ہوئی ہے کہ آپ ربوہ میں گل پاکستان اردو کا نفرنس منعقد کر رہے ہیں اس قسم کے اجتماعات زبان وادب کے حق میں بڑے مفید ثابت ہوتے ہیں، ان میں اہل فکر کو یکجا ہو کر عالمی مسائل پر غور وفکر کرنے کا موقع ملتا ہے اور زبان وادب کی ترویج کے نئے نئے راستے سامنے آتے ہیں۔اردو کو اس وقت جو مسائل در پیش ہیں وہ گونا گوں نوعیت کے ہیں۔ہماری ایک قدیم کمزوری یہ ہے کہ ہم ہر معاملے کا جو حل بھی تلاش کرتے ہیں اس میں حکومت سے چند مطالبات ضرور شامل کئے جاتے ہیں اور گاہے گا ہے انہیں دہرایا جاتا ہے۔لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سلسلہ میں کچھ ہمارے بھی فرائض ہیں جن پر ہمیں عمل کرنا چاہیئے مثلاً ہم یہ تو کہہ دیتے ہیں کہ حکومت کی فلاں کارروائی اردو میں نہیں ہوئی لیکن یہ کبھی نہیں سوچتے کہ خود ہم نے اردو کو کس حد تک اپنایا ہے اور اسے کس انداز سے اپنی ذات کا ایک جزو بنایا ہے۔اردو کے سلسلہ میں ہم دوسروں کا محاسبہ تو کر لیتے ہیں لیکن کبھی کبھی اپنا محاسبہ بھی کر لیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔اس طرح حقوق و فرائض کے معاملہ میں ایک خوشگوار توازن پیدا ہو جائے گا۔آج ہمارا ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ اردو کو پاکستان کی دوسری علاقائی زبانوں سے زیادہ سے زیادہ قریب کس طرح لایا جائے۔میری خواہش ہے کہ اس کا نفرنس میں جو اہل علم شریک ہورہے ہیں وہ اس مسئلہ پر پوری طرح سوچ بچار کریں کیونکہ ہماری قومی ترقی کے لئے اردو اور علاقائی زبانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا بہت ضروری ہے جو لوگ اردو اور علاقائی زبانوں کو ایک دوسرے کا حریف سمجھتے ہیں وہ نہ اردو کے خیر خواہ ہیں نہ علاقائی زبانوں کے۔ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اردو اپنے مزاج و منہاج اور رسم الخط کے اعتبار سے مغربی پاکستان کی تمام علاقائی زبانوں سے مکمل مماثلت رکھتی ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مماثلت کو مزید بڑھایا جائے۔مجھے توقع ہے کہ آپ اس سلسلہ میں ضرور کوئی عملی اقدام کریں گے۔میں آپ کی کانفرنس کی کامیابی کے لئے دست بدعا ہوں۔“ اختر حسین صدر انجمن ترقی اردو 102