تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 512 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 512

تاریخ احمدیت۔جلد 22 512 سال 1964ء کانفرنس کا آغاز صبح ٹھیک ساڑھے نو بجے ڈاکٹر وزیر آغا کی صدارت میں ہوا۔کالج کے طالب علم محمود سلطان صاحب نے نہایت خوش الحانی سے تلاوت کلام پاک کی ان کے بعد محترم پروفیسر محبوب عالم صاحب خالد صدر شعبہ اردو تعلیم الاسلام کالج نے محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس استقبالیہ کی طرف سے خطبہ استقبالیہ پڑھا اور تمام مند و بین کو خوش آمدید کہتے ہوئے یہ بات بھی واضح کی کہ ہمارا اردو کے ساتھ ایک جذباتی لگاؤ ہے کیونکہ ہمارے امام ومطاع سید نا حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی بیشتر کتب اردو میں ہیں۔ان کے بعد معتمد مجلس استقبالیہ نے مکرم اختر حسین صاحب صدر انجمن ترقی اردو پاکستان اور مکرم ڈاکٹر اشتیاق حسین صاحب قریشی رئیس الجامعہ جامعہ کراچی کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔جو انہوں نے اس کانفرنس کے نام ارسال فرمائے تھے۔ان پیغامات کے علاوہ سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اس پیغام کے اقتباسات بھی پڑھ کر سنائے جو حضور نے ۱۹۴۸ء میں دانش گاہ پنجاب میں منعقد ہونے والی کا نفرنس کے نام ارسال فرمایا تھا۔ازاں بعد مولانا دوست محمد صاحب شاہد نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کا مضمون ” رسائل اردو زبان کی کیا خدمت کر سکتے ہیں ؟ پڑھ کر سنایا۔یہ مضمون حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت ادبی دنیا کے لئے تحریر فرمایا تھا جب علامہ تاجور اس کے مدیر اور سر عبدالقادر اس کے نگران تھے۔یہ مضمون ایک امتیازی حیثیت کا حامل تھا۔خاص طور سے مضمون کے آخری حصہ نے جس میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جلالی انداز میں اردو کے غالب ہونے اور بادشاہوں کی زبان بن جانے کی پیشگوئی فرمائی تھی ( یہ سہو ہے زبان اردو کی بابت پیشگوئی حضرت خواجہ میر در درحمہ اللہ نے فرمائی تھی جو اس موقعہ پر میخانہ درد کے حوالہ سے پڑھی گئی)۔سامعین پر وجد کی سی کیفیت طاری کر دی۔حضور کے مضمون کے بعد محترم صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز نے تراجم کے مسائل کے موضوع پر تقریر فرمائی اور پھر صاحب صدر نے خطبہ افتتاحیہ فرماتے ہوئے تعلیم الاسلام کالج میں اردو کا نفرنس منعقد کرنے پر کالج کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آپ لوگوں نے اردو کی جو خدمت کی ہے وہ دوسروں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوگی اور دوسرے بھی اس مبارک اقدام کی تقلید کریں گے۔صاحب صدر نے اردو نظم کی علامتوں کا المیہ" کے عنوان پر اپنا مقالہ بھی پیش کیا۔مقالہ کے بعد مکرم محسن احسان صاحب، استاد ادبیات انگریزی دانش گاہ پشاور، مکرم فارغ بخاری صاحب ( پشاور ) محترم پروفیسر غلام جیلانی صاحب اصغر سرگودھا اور مکرم نسیم سیفی صاحب نے اپنا کلام پیش کیا۔دوسری