تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 508
تاریخ احمدیت۔جلد 22 508 سال 1964ء رہے۔بعد میں چونکہ حضرت بڑے بھائی صاحب اتنا وقت دے نہ سکتے تھے پورا کام ہی آپ کے سپرد کر دیا گیا۔حضرت اماں جان کے ہر چھوٹے موٹے کام کی خبر گیری وغیرہ غرض دینی و دنیاوی ہر قسم کے بوجھ اٹھا لینا اپنا فرض جانا اور کبھی آرام کا خیال نہیں کیا۔اطاعت خلافت میں وہ اپنی نظیر آپ ہی رہے۔حضرت بڑے بھائی صاحب نہایت درجہ شفقت فرماتے رہے ہمیشہ۔مگر یہ ہمیشہ سر جھکائے تابعدار خادم کی طرح ہی بنے رہے۔بادب با نصیب ، وہی ادب و اطاعت عملی و زبانی، ہر طرح سامنے بھی اور پس پشت بھی۔غرض ان میں بہت ہی خوبیاں تھیں اور ایسی شخصیت تھی جس کی یاد میں بھی ایک زندگی ہے اور آج تک خاص قرب محسوس ہوتا ہے۔اس ایک صفت احساس ذمہ داری کی جانب میں اس وقت آپ لوگوں کو خاص توجہ دلانا چاہتی ہوں کہ آپ میں سے بھی ہر ایک یہ جان لے اور ایسا ہی سمجھنے کا عزم کر لے کہ بیعت اور احمدیت کے حلقہ میں آجانے کے بعد اطاعت خلافت کا محض فرضی جوا اٹھا کر آپ ہرگز فارغ نہیں ہو سکتے۔اس جوئے کو اگر آپ نے اٹھایا ہے تو اٹھانے کی طرح اٹھائیے اور سمجھ لیجئے کہ بس آج سے احکام خلافت سے وابستہ رہتے ہوئے تنظیم کامل کے ساتھ ہر ایک فرد سمجھے کہ یہ بوجھ گویا میں نے ہی اٹھانا ہے دوسروں کا منہ مت دیکھئے۔ارد گر دمت تا کئے۔کام کرنے والوں میں جو آپ سے پیش پیش ہیں نقائص مت ڈھونڈئیے۔خود اپنی گٹھڑی اٹھا کر آگے بڑھیئے۔اتنا درد دین کے لئے آپ کے قلوب میں پیدا ہو جائے کہ یہ سارا غم دین اور دکھ گویا آپ کا ہی حصہ ہے اور سمجھیں کہ ؎ سارے جہاں کا درد ہمارے جلد میں ہے اب آئندہ اس بھاری ذمہ داری کو اٹھا لینے والے آپ لوگ ہی ہیں۔آئندہ آپ نے ہی اس کام کو نبھانا ہے۔جس کام کیلئے آپ کے بزرگ اپنی زندگی اسی کوشش میں صرف کر کے ادائے فرض کر گئے یا بقیہ جو ہیں، خدا تعالیٰ ان کی زندگیوں میں برکت بخشے، کر رہے ہیں۔اب آپ ان کے دست و بازو صحیح معنوں میں صفائی قلب و نیک نیتی کے ساتھ بغیر کسی فخر یا ظاہری وقار کے حصول کی آرزو کے بنیں اور یا در ہے اور پھر یادر ہے کہ یہ ٹرینگ کے دن ہیں۔یہ پہاڑ جو دن بدن بوجھل ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ آپ نے ہی اٹھانا ہے۔پس قدم بڑھا ئیں نئے حوصلوں کے ساتھ نئے مبارک وصافی دلوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی نصرت آپ سب کے اور آپ کے بعد آنے والی نسلوں در نسلوں کے ساتھ رہے۔آمین۔فقط مبارکہ 97