تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 485
تاریخ احمدیت۔جلد 22 485 سال 1964ء چوہدری محمد ظفر اللہ خاں مسلم لیگ کی طرف سے پیش ہوئے تھے انہوں نے جماعت احمدیہ کے خصوصی دعوے کے بارہ میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔سرکاری ریکارڈ دیکھ کر یہ امر معلوم کیا جا سکتا ہے کہ جماعت احمدیہ کے پیش کردہ تحریری محضر میں ایک خاص نکتہ یہ پیش کیا گیا تھا کہ قادیان ایک فعال بین الاقوامی اسلامی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے جہاں سے پوری دنیا میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کی جارہی ہے۔مزید برآں جماعت احمدیہ کے بانی کا مزار قادیان میں ہے اس لئے قادیان دنیا بھر کے احمدیوں کے لئے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔چنانچہ پوری شدت کے ساتھ اس امر پر زور دیا گیا کہ گورداسپور کا ضلع نہ صرف ۴ ۱۶ کی مسلم اکثریت کی بناء پر ہی نہیں بلکہ اس بناء پر بھی لازمی طور پر پاکستان میں شامل کیا جائے۔جب میں نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے کیس پیش کیا تو جسٹس تیجا سنگھ نے مجھ سے ایک سوال پوچھا۔جس کا میں نے جواب دیا یہ امر مفید ہو گا کہ میں وہ سوال اور اس کا جواب یہاں دہرا دوں۔مسٹر جسٹس تیجا سنگھ: مسٹر بشیر احمد دیگر مسلمانوں کے تعلق میں آپ کی جماعت کی کیا پوزیشن ہے؟ شیخ بشیر احمد : مائی لارڈز! ہم اول بھی مسلمان ہیں اور آخر بھی مسلمان ہیں۔اور ہم اسلام ہی کا ایک حصہ ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ سوال اس غرض سے کیا گیا تھا کہ مجھ سے جواباًا ایسی بات کہلوائی جائے جو مسلم لیگ کے مفاد کے خلاف ہو اور جس میں باہمی اختلافات پر زور دیا گیا ہو۔اس سے انہیں یہ دلیل ہاتھ آجاتی کہ اگر مذہبی جذبات کی روشنی میں بھی جائزہ لیا جائے تو گورداسپور میں آبادی کی اکثریت مسلم لیگ کے حق میں نہیں ہے کیونکہ احمدی گورداسپور میں بہت معقول تعداد میں تھے۔بحث میں مسٹر جسٹس تیجا سنگھ نے یہ کہہ کر کہ پنجاب میں تو مسلمانوں کے اور بھی بہت سے مزارات اور خانقا ہیں وغیرہ ہیں جگہ کے تقدس کی بنیاد پر پیش ہونے والے دعوے کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی۔سرکاری ریکارڈ سے میرے اس بیان کی تصدیق ہو سکتی ہے کہ میں نے کمیشن کے سامنے اس بات کو بڑی شد و مد کے ساتھ پیش کیا کہ قادیان اور دوسرے مقدس مقامات میں فرق ہے کیونکہ قادیان وہ واحد مرکز ہے جہاں سے منظم بنیادوں پر تمام جہان میں اسلام کی تبلیغ کی جارہی ہے۔بحث کے دوران میں نے یہ بھی دلیل پیش کی کہ اگر قادیان کو انڈین یونین میں شامل کیا گیا تو وہاں سے ہونے والی تبلیغی جد و جہد کو شدید نقصان پہنچے گا۔