تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 477
تاریخ احمدیت۔جلد 22 477 سال 1964ء جناب سے روح کا علم عطا کر دے۔اس علم کو حاصل کرنا بدرجہ اولیٰ ضروری ہے کیونکہ اس کا فائدہ مادی علوم کی طرح اس دنیا میں ہی ختم نہیں ہو جائے گا بلکہ یہ مرنے کے بعد ابد الآباد تک چلتا چلا جائے گا۔پس ہمیں قرآن کا اس طور پر مطالعہ کرنا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ خود ہم پر روحانی علوم کے دروازے کھولتا چلا جائے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ، جن کی حیات طیبہ قرآن کی جیتی جاگتی تصویر تھی ، قرآن مجید سے صحیح طور پر استفادہ کرنے اور اسے اپنا دستور العمل بنانے کی توفیق عطا فرمائے تا روحانی علوم کے دروازے ہم پر کھلیں اور ہم نہ صرف اس جہان میں بلکہ اگلے جہان میں بھی ابدالآباد تک روحانی ترقیات سے بہرہ ور ہوتے چلے جائیں۔اس پر معارف خطاب کے بعد آپ نے اجتماعی دعا کرائی اور یہ بابرکت تقریب اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔لنگر خانہ کی طرف سے دعوت کا اہتمام اُسی روز ( مورخہ ۳۰ جولائی کو نماز عشاء کے بعد جملہ طلباء کولنگر خانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے دی گئی ایک خصوصی دعوت میں شمولیت کا شرف حاصل ہوا۔اس دعوت کا اہتمام محترم صاحبزادہ مرزا انور احمد صاحب افسر لنگر خانہ نے کیا۔اس میں طلبہ کے علاوہ اساتذہ کرام، علماء سلسلہ اور بعض دیگر احباب نے بھی شرکت کی۔دعوت کے اختتام پر مکرم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب قائمقام ناظر اصلاح وارشاد نے دعا کرائی۔یہ مبارک کلاس ۱۹۸۳ ء تک مسلسل ۱۸ سال جاری رہی اور قرآنی علوم کی ایک روح پرور درسگاہ ثابت ہوئی اور جماعت کے ہر حلقے میں قرآنی انوار کی وسیع پیمانے پر اشاعت کا موجب بنی۔تاہم ۱۹۷۴ء میں جماعت کے خلاف ملک گیر ہنگاموں اور ۱۹۸۱ء میں آشوب چشم کی وباء کی وجہ سے کلاس ملتوی کرنا پڑی۔جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے پہلی تعلیم القرآن کلاس میں پہلے روز صرف ۷۲ طلباء شامل ہوئے مگر اس کے بعد خدا کے فضل و کرم سے اس میں ہر سال برابر اضافہ ہوتا رہا۔یہاں تک کہ ۱۹۸۳ء کی آخری کلاس میں طلباء اور طالبات کی تعداد تین ہزار چھہتر تک پہنچ گئی۔کلاس میں شامل ہونے والے خوش نصیب طلباء اور طالبات کی تعداد کا گوشوارہ مستند اعداد و شمار کی روشنی میں سپر دقر طاس کیا جاتا ہے۔80