تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 471 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 471

تاریخ احمدیت۔جلد 22 471 سال 1964ء تو حکومت کو اس کتاب کی اشاعت پر کوئی اعتراض نہ ہو گا۔چنانچہ حکومت کی طرف سے گفتگو کے اس نتیجہ کو درست تسلیم کیا گیا۔اس کے بعد حکومت نے اپنے فیصلے کی باضابطہ تصدیق کر دی۔حکومت کے اس فیصلے کے بعد پوری دنیائے احمدیت نے اطمینان کا سانس لیا اور مرکز احمدیت کی طرف سے اس کتاب کی وسیع پیمانے پر اشاعت کا انتظام کیا گیا۔جس کے نتیجے میں احباب جماعت خصوصاً احمدیت کی نئی نسل کو اس کا بغور مطالعہ کرنے کا موقعہ ملا اور اس کے حقائق و معارف سے آگاہی کی توفیق ملی۔ایک معاند احمدیت کا بیان ہے کہ : ”مرزائیوں کے وہ ( ملک امیر محمد خاں گورنر مغربی پاکستان۔ناقل ) سخت مخالف تھے۔۔۔قاضی احسان احمد صاحب نے ایک ملاقات میں کتاب ”ایک غلطی کا ازالہ دکھائی اور اس کے مندرجات پڑھ کر سنائے تو امیر محمد خاں آبدیدہ ہو گئے۔انہوں نے فوراً اس کتاب کو خلاف قانون قرار دے دیا۔قاضی صاحب نے انہیں مبارکباد کا تار بھیجا۔مرزائیوں نے اس پابندی کے خلاف زور شور سے آواز بلند کی اور ایوب خاں تک رسائی کی جس نے بالآخر کتاب پر سے پابندی ہٹا دی ( اصل واقعہ اوپر بیان ہو چکا ہے)۔امیر محمد خاں کو سخت صدمہ ہوا۔مولانا غلام غوث ہزاروی اور مولانا مفتی محمود صاحب ان سے ملے اور پابندی اٹھانے پر افسوس کا اظہار کیا۔امیر محمد خاں نے کہا کہ مفتی صاحب مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ مرزائیت کتنی بڑی طاقت اختیار کر گئی ہے۔اس کتاب پر پابندی کے بعد جب اندرون و بیرون ممالک سے مجھ پر اور صدر مملکت پر دباؤ پڑنا شروع ہوا تو مجھے احساس ہوا کہ مرزائیت کتنی بڑی طاقت ہے“۔نواب کالا باغ ملک امیر محمد خاں ( ۱۹۱۰ ء - ۱۹۶۷ء) کا شمار ملک کے بڑے جاگیرداروں میں ہوتا تھا۔جون ۱۹۶۰ء میں وہ مغربی پاکستان کے گورنر بنے۔ستمبر ۱۹۶۶ء میں مستعفی ہو گئے اور اگلے سال ۲۶ نومبر ۱۹۶۷ء کو اپنے بیٹے ملک اسد اللہ خاں کے ہاتھوں قتل ہو گئے ) فضل عمر مرکزی تعلیم القرآن کلاس کا آغاز سال ۱۹۶۴ء کا نصف آخر انوار قرآنی کی ضیا پاشیوں کے اعتبار سے ہمیشہ یادرکھا جائے گا کیونکہ اس کے آغاز میں فضل عمر مرکزی تعلیم القرآن کلاس کا مرکز سلسلہ عالیہ احمدیہ میں اجرا ہوا۔جس کا پس منظر یہ ہے کہ بعض دوستوں کی طرف سے نگران بورڈ میں یہ تجویز بھجوائی گئی کہ موسم گرما کی تعطیلات میں