تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 467
تاریخ احمدیت۔جلد 22 467 يَأَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللهَ وَلَا تُطِعِ الْكُفِرِيْنَ (الاحزاب: ۲) سال 1964ء ٢ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب : ۲۲) ۲۲۔کشف مندرجہ رسالہ ایک غلطی کا ازالہ کے متعلق ہم عرض کرتے ہیں کہ کشف اور رویا قرآن کریم کی تعلیم کی رُو سے تعبیر طلب ہوتے ہیں اور یہ ایک وسیع علم ہے جو قرآن شریف نے ہمیں دیا ہے۔کشوف اور رؤیا کے مناظر کو ظاہر پر محمول کرنا سراسر نا جائز ہے۔یہ ایک متفقہ اسلامی مسئلہ ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ حکم ضبطی میں اس مسئلہ کو زیر غور نہیں رکھا گیا۔۲۳۔ہم نے کشف اور رؤیا کے سلسلے میں آیت و حدیث کے علاوہ بزرگان دین مثلاً امام اعظم ابوحنیفہ ، حضرت غوث الاعظم سید عبد القادر جیلانی ، حضرت شبلی، حضرت سید احمد بریلوی مسجد دصدی سینز دہم نیز جناب مولانا فضل رحمن صاحب وغیرہ جیسے مسلم بزرگوں اور علماء کے بعض کشوف اور علمی حوالہ جات بھی درج کئے ہیں۔بعض کشوف میں سیدۃ النساء حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنھا کو دیکھا گیا ہے مثلاً حضرت سید احمد بریلوی کے حالات میں لکھا ہے کہ:۔ایک دن حضرت علی کرم اللہ وجہ اور سیدۃ النساء فاطمتہ الزہرا کو سید صاحب نے خواب میں دیکھا۔اسی رات کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دست مبارک سے آپ کو نہلایا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا نے ایک لباس اپنے ہاتھ سے آپ کو پہنایا۔مفصل حوالہ جات اس عرضداشت میں بطور فہرست زشامل ہیں۔کیا یہ کتا بیں بھی قابل ضبطی ہیں؟ ۲۴۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے زیر نظر رسالہ میں اس کشف کو مجمل طور پر ذکر فرمایا ہے۔براہین احمدیہ میں ۱۸۸۴ء میں پہلی مرتبہ یہ کشف درج ہوا ہے جس میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کا ذکر بطور مادر مہربان فرمایا ہے۔ستر الخلافہ نامی کتاب میں بھی اس طرح مذکور ہے ہم نے حوالہ جات فہرست میں شامل کر دیئے ہیں۔۲۵۔ہم نے یہ گذارشات اس نیت سے پیش کی ہیں کہ مندرجہ بالا نتائج اور عواقب پر نظر ڈالی جاۓ۔ایک وفادار پاکستانی جماعت ہونے کے لحاظ سے ہمارا یہ فرض ہے کہ مذکورہ بالا نقاط نظر کی طرف نہایت ادب و احترام سے ارباب حل و عقد کی توجہ مبذول کرائیں تا کہ پاکستان میں مذہبی آزادی اور رواداری کا دور دورہ ہو اور پاکستان کی نیک نامی دنیا میں روز افزوں ترقی کرے۔پس ہماری مخلصانہ درخواست ہے کہ بانی جماعت احمدیہ کی زیر نظر کتاب پر سے پابندی اٹھائی