تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 466
تاریخ احمدیت۔جلد 22 466 سال 1964ء احمدیہ کے ایمان و عقائد پر ایک جبر اور دست اندازی ہے۔جو سراسر آئین و قانون کے خلاف ہے۔چونکہ حضرت مرزا صاحب (علیہ السلام) کے دعاوی پر ایمان لانا ہر احمدی کا فرض ہے اور ہم دل سے ان پر ایمان رکھتے ہیں۔پس اس کے اظہار میں اگر کوئی رکاوٹ ڈالی جائے تو مداخلت فی الدین ہوگی۔۲۰۔مسئلہ ختم نبوت کی وضاحت کے لئے نہایت اختصار کے ساتھ ہم نے آئمہ اور بزرگوں کے متعد د حوالہ جات فہرست میں شامل کر دیئے ہیں۔اہل سنت والجماعت کے مشہور امام ملا علی قاری آیت خاتم النبیین کی شرح میں فرماتے ہیں:۔لو عاش ابراهيم وصار نبيا و كذا لوصار عُمر نبيًا لكانا من اتباعه عليه السلام کعیسی و خضر و الياس 71 ترجمہ: اگر صاحبزادہ ابراہیم زندہ رہتے اور نبی ہو جاتے اور اسی طرح حضرت عمر نبی ہو جاتے تو وہ دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروں میں سے ہوتے جیسا کہ عیسی ، خضر اور الیاس کا حال ہے۔پھر اس سوال کا جواب دیتے ہوئے جو ذہنوں میں پیدا ہوسکتا تھا کہ کیا ان کا نبی ہو جانا آیت خاتم النبین کے خلاف نہ ہوتا آپ فرماتے ہیں۔فــلا يـنـاقـض قـولـه تعالى خاتم النبيين اذ المعنى انه لا ياتي نبي بعده ينسخ ملته ولم يكن من امته 72 ترجمہ:۔کہ ان کا نبی ہو جانا اس لئے خدا کے قول خاتم النبیین کے خلاف نہ ہوتا کہ خاتم النبین کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی امت کو منسوخ کرے اور آپ کی امت سے نہ ہو۔۲۱۔اولیاء امت اور صلحاء پر بسا اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظلیت میں قرآن مجید کی وہ آیات بھی الہاما نازل ہوئی ہیں جو قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں نازل ہوئی تھیں لیکن وہ کبھی قابل اعتراض نہیں سمجھی گئیں۔ہم نے فہرست د میں صلحاء امت کے ایسے چند الہامات کے حوالہ جات آپ کے ملاحظہ کیلئے درج کئے ہیں مثلاً شمالی پاکستان کے مشہور بزرگ سلطان الاولیاء بُرہان الاتقیاء شمس الولایۃ حجتہ الاسلام حضرت سیدا میرا اتمان زئی نقشبندی المعروف حضرت پیر کوٹھہ شریف رحمۃ اللہ علیہ پر مندرجہ ذیل آیات قرآنی بطور الہام نازل ہوئیں۔