تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 454
تاریخ احمدیت۔جلد 22 454 سال 1964ء مؤثر انداز میں انصار اللہ کو خصوصاً اور احباب جماعت کو عموماً ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔آپ کے بعد محترم مولانا جلال الدین شمس نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے موضوع پر تقریر کی۔اسی روز شام ساڑھے پانچ بجے آپ نے مسجد نور کی پہلی منزل میں احمد یہ لائبریری کا سنگِ مرمر کا کتبہ نصب فرمانے کے بعد اجتماعی دعا کروائی۔شام چھ بجے مقامی جماعت نے آپ کے اعزاز میں وسیع پیمانے پر استقبالیہ کا انتظام کیا ہوا تھا۔بعد نماز مغرب محترم مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری نے فضیلت اسلام“ کے موضوع پر تقریر فرمائی۔رات نو بجے مقامی جماعت کی طرف سے کھانے کا پروگرام تھا۔اس موقعہ پر (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے اجتماعی دعا کروائی۔۔راولپنڈی سے مؤرخہ ۹ مئی ۱۹۶۴ء بروز ہفتہ صبح ساڑھے سات بجے (حضرت ) صاحبزادہ صاحب اپنے صحابہ کرام اور چوہدری احمد جان صاحب امیر ضلع راولپنڈی کے ہمراہ مجلس انصار اللہ ضلع پشاور کے اجتماع کے لیے پشاور روانہ ہوئے۔جب آپ ٹیکسلا پہنچے تو مکرم بشیر احمد صاحب چغتائی صدر مقامی جماعت، حافظ مراد بخش صحابی، کمانڈ رسلیم احمد صاحب نے آپ کا استقبال کیا۔وہاں سے آپ واہ کینٹ میں اس جگہ تشریف لائے جو مسجد کے لئے حاصل کی گئی تھی۔دوستوں سے مصافحہ کے بعد آپ نے جماعت کو نصائح سے نوازا اور مسجد بنانے سے متعلق ضروری تجاویز دیں۔پھر لمبی پر سوز دعا کروائی۔قریباً پون گھنٹہ ٹھہرنے کے بعد پشاور تشریف لے گئے جہاں آپ نے پشاور ڈویژن کے اجتماع میں شرکت فرمائی، انعامات تقسیم فرمائے اور اپنے خطاب سے نوازا۔اس سے اگلے دن پشاور سے قریباے میل دور ایک موضع شیخ محمدی میں آپ کی آمد ہوئی۔مقامی احباب نے دیہات سے باہر نکل کر آپ کا استقبال کیا۔جو نہی آپ جائے قیام کے قریب پہنچے تو مقامی دستور کے مطابق وہاں احباب نے ہوائی فائر بکثرت کئے اور اس طرح آپ کے قدم تہنیت پر اپنی دلی مسرت کا اظہار کیا۔محترم صاحبزادہ صاحب نے تمام احباب کو شرف مصافحہ بخشا اور مکرم عبدالقیوم خانصاحب کے ہاں تشریف لے گئے جہاں پر ایک مختصر تقریب کا انتظام کیا گیا تھا۔ساڑھے گیارہ بجے تلاوت و نظم سے جلسے کا آغاز مکرم شمس الدین خانصاحب امیر جماعت کی صدارت میں ہوا۔اور سب سے پہلے جناب عبد الغنی خانصاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ شیخ محمدی نے پشتو میں اور