تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 446
تاریخ احمدیت۔جلد 22 446 سال 1964ء ہمارے بچے جو پیدائشی احمدی ہیں وہ خاص طور پر ہماری توجہ اور تربیت کے مستحق ہیں۔قرآن کریم ، احادیث نبویہ، کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام، کتب حضرت خلیفہ المسیح الاول و کتب حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور علمائے سلسلہ کی کتب کا مطالعہ۔مرکز میں بار بار آمد۔خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ کے مقرر کردہ پروگراموں پر برضاء ورغبت عمل کرنے کی تلقین اور جماعت سے کامل فرمانبرداری کی نصیحت یقیناً آپ کے بچوں کے لئے اکسیر ثابت ہو گی۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ لوگوں کو بھی اس عظیم ذمہ داری سے پوری طرح عہدہ برآ ہونے کی توفیق عطا فرما دے۔آمین یا رب العالمین آپ کا بھائی خاکسار مرزا ناصراحمد - صدر - صد را مجمن احمد یہ پاکستان ربوہ ) سکھ یا تریوں کے لئے پیغام محبت 52 اپریل ۱۹۶۴ء کے آغاز میں حسب معمول مختلف ممالک سے چار ہزار کے قریب سکھ پاکستان آئے۔اور انہوں نے حسن ابدال کے گوردوارہ پنجہ صاحب میں بیساکھی کا پورب منایا۔اس موقع پر صیغه نشر و اشاعت ربوہ کی طرف سے پریم سنہا کے نام پر ایک گورکھی ٹریکٹ تقسیم کیا گیا جو گیانی عباداللہ صاحب (سکالرسکھ لٹریچر ) کا تحریر فرمودہ تھا۔ٹریکٹ کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے:۔پیارے بھائیو! آپ ہمارے ملک پاکستان میں بساکھی کا پورب منانے کے لئے آئے ہیں۔ہم آپ سب کو مبارکباد دیتے ہیں اور خوش آمدید کہتے ہیں۔بھائیو۔آج تمام دنیا میں ایک کہرام مچا ہوا ہے۔کہیں نسلی جھگڑے چل رہے ہیں اور کہیں اور فساد بچ رہے ہیں۔بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے۔اگر مذہبی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو اس کا اصل سبب لوگوں کا خدا تعالیٰ سے دور ہو جانا ہے۔اسی بات کے پیش نظر گور بانی میں یہ کہا ہے کہ :۔پرمیشر تے بھلیاں دیا پن سمجھے روگ بے سکھ ہو کے رام تے لگن جنم وجوگ 53 یعنی خدا تعالیٰ سے دوری اختیار کرنے سے انسان مختلف قسم کے مصائب کا شکار ہو جاتا ہے۔اسلام اور سکھ مذہب دونوں خدا تعالیٰ کے ماننے والے دھرم ہیں۔ان دونوں میں اس بارہ میں