تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 445 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 445

تاریخ احمدیت۔جلد 22 445 سال 1964ء ناصر احمد صاحب نے حسب ذیل پیغام ارسال فرمایا جو کرم محمد اعظم صاحب جدون نے پڑھ کر سنایا:۔احباب کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مجھے یہ معلوم کر کے مسرت ہوئی کہ خدام الاحمدیہ ایبٹ آباد کے عہد یداران نے کوشش کر کے یوم والدین “ منانے کا اہتمام کیا ہے۔اطفال اور خدام الاحمدیہ کی تربیت کے لئے والدین کو ان کی ذمہ داریوں سے روشناس کرانا ضروری ہی نہیں بلکہ لازمی ہے۔قوموں کی ترقی کا راز ان کی نئی پود میں روحانی، اخلاقی اور عمل کی قوتوں کو اجاگر کرنے میں ہے۔خصوصاً ہم لوگوں کو جو احمدیت سے وابستہ ہیں اس فرض کی ادائیگی کی طرف خاص طور پر توجہ دینی ہوگی۔مجھ سے خواہش کی گئی ہے کہ میں اس موقعہ پر آپ لوگوں کے نام ایک پیغام بھجواؤں سو میرا پیغام اس کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ میں اپنے بھائیوں سے درد بھرے دل سے یہ گذارش کروں کہ وہ اپنے نونہالوں کو کچھ ایسے رنگ میں رنگین کرنے کی مساعی بروئے کارلائیں اور ایسے رنگ میں ان کی تربیت کی طرف توجہ دیں کہ ہماری یہ نئی پوداحمدیت کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو جائے۔ہمارے بڑوں نے احمدیت کے بوجھ کو جس رنگ میں اٹھایا اور اس کی گونا گوں ذمہ داریوں سے جس طرح وہ عہدہ برآ ہوئے اس کی متعدد مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔جہاں سلسلہ نے مالی قربانیوں کا تقاضا کیا۔وہاں شیدائیانِ احمدیت نے نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ (ال عمران : ۵۳) کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے اپنا مال عزیز پیش کر دیا اور جب جان کی قربانی کا لمحہ آیا تو انہوں نے بخوشی اور برضاء ورغبت اپنی جان جان آفرین کے سپر دکر دی۔المختصر انہوں نے اپنی جان اور مال سے احمدیت کے درخت کو سینچا اور اس کی نشو ونما کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔اس کے بعد ہم کمزوروں اور عاجزوں کی باری آئی اور ہم میں سے اکثر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق کے مطابق احمدیت کے غلبہ کے لئے کمر بستہ ہیں۔ہمارے بعد احمدیت کا بوجھ ان کے کندھوں پر لا دا جائے گا۔جن کو ہم آج اطفال یا خدام کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔اندازہ لگائیے اگر خدانخواستہ ہم نے ان کی تربیت کی طرف خاطر خواہ توجہ نہ دی تو کیا وہ اس عظیم ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لئے تیار ہوں گے۔احمدیت نے تو اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور بشارات کے مطابق ترقی کرنی ہے۔یہ ہر احمدی کا ایمان ہے۔مگر ہمیں تو تب ہی خوشی ہوگی جبکہ احمدیت کی ترقی میں ہمارا ہی حصہ ہو تا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے انعامات کے وارث بنیں۔