تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 441 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 441

تاریخ احمدیت۔جلد 22 441 سال 1964ء اختصار سے روشنی ڈالی۔اور آخر میں طلبہ کو نصیحت فرمائی کہ وہ اس نقطہ نگاہ سے دنیا میں علم حاصل کرتے چلے جائیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے کی کوشش کریں یعنی اپنی زندگیوں کو اس رنگ میں ڈھالیں کہ ان میں خدا تعالیٰ کی صفات جلوہ گر نظر آنے لگیں۔آپ نے واضح فرمایا کہ یہی وہ طریق ہے جس کی مدد سے وہ تخلیق عالمین کے مقصد کو پورا کرنے والے بن سکتے ہیں۔کالج کی سالانہ روداد پیش ہونے کے بعد محترم پرنسپل صاحب کی درخواست پر مولانا جلال الدین صاحب شمس نے وہ خطبہ اسناد پڑھ کر سنایا جو حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری نے لکھوا کر ارسال فرمایا تھا۔حضرت حافظ صاحب نے اپنے اس خطبہ میں تعلیم الاسلام کالج کے فارغ التحصیل طلباء کو ان کا مقام اور منصب یاد دلاتے ہوئے فرمایا:۔" آپ صرف گریجویٹ ہی نہیں بلکہ بفضلہ تعالی تعلیم الاسلام کالج کے گریجویٹ ہیں۔آپ پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے کہ آپ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے آپ دنیا فتح کریں اور انشاء اللہ فتح کریں گے لیکن دنیا کی خاطر نہیں۔چاند کیا نظام سماوی کی سیر کر آئیں لیکن اپنی خاطر نہیں اپنی عظمت ظاہر کرنے کے لئے نہیں، بلکہ اپنے خالق حقیقی اللہ تعالیٰ عزاسمہ وجل شانہ کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے پھر اپنے ہادی پاک صاحب لولاک احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے آپ علم و حکمت سیکھیں لیکن تقویٰ و طہارت کے حصول و قیام کی کوشش کے ساتھ۔آپ ہر حال میں اسلام کے جیتے جاگتے چلتے پھرتے نمونے نظر آئیں۔آپ کا ہر قول وفعل، آپ کے تمام حرکات و سکنات، آپ کی دوستیاں اور آپ کی مجلسیں، آپ کے کھیل اور آپ کے مقابلے، آپ کی کارگزاریاں اور آپ کی کامیابیاں اسلام کی خاطر اور اسلام کی روح کے مطابق ہوں۔آپ کا کام ساری دنیا کو اسلام کی آغوش میں لے آنا ہے آپ کا کام اکناف عالم میں سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا پرچم لہرانا ہے۔اس مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے ذرائع پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے فرمایا:۔اپنے کالج کا شعار علم و عمل ہمیشہ یاد رکھیں۔سب سے بڑھ کر اس استاد ازل سے اپنا رشتہ مضبوطی کے ساتھ استوار کرنے کی کوشش کریں جس کے بغیر تمام کامیابیاں بیچ اور بے مغز ہیں۔قرآن کریم کو اپنا لائحہ عمل بنائیں اور اس کے ہر حکم پر سر تسلیم جھکا ئیں اور اس کی لائی ہوئی تعلیم پر قائم ہو جائیں۔عشق