تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 30
تاریخ احمدیت۔جلد 22 30 سال 1963ء فصاحت و بلاغت اور قطعی دلائل سے پر اور انسانی قلوب میں ایمان کی تجدید اور پختگی کا باعث بنتی ہیں۔آپ ہی کے وجود باجود کے طفیل ظہور پذیر ہوئی ہیں۔لہذا ان عظیم خدمات اور قیمتی مؤلفات کی بنا پر جو اسلام کی سر بلندی کا باعث ہیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ ہر قسم کے اعزاز اور احترام کے مستحق تھے اور پاکستان کی اسلامی حکومت کو چاہیئے تھا کہ وہ اس عظیم امام (علیہ السلام) کی کتب کی تائید کرتی اور ان کی وسیع پیمانے پر اشاعت کی حوصلہ افزائی کرتی۔چہ جائیکہ ان کے خلاف اس قسم کا مخالفانہ رویہ اختیار کیا جاتا اور یہ سلوک اس امر کے باوجود کیا جا رہا ہے کہ برصغیر ہند و پاک پر غیر ملکی عیسائی حکومت کے دور اقتدار میں ان کے خلاف کوئی اعتراض نہ ہوا تھا اور نہ کوئی تعزیری کا رروائی ہی کی گئی تھی۔ان حالات کی روشنی میں ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس غیر منصفانہ حکم کو جو کتاب مذکور کے بارہ میں صادر کیا گیا ہے اور جس نے ہمارے دلوں کو بُری طرح مجروح کیا ہے فوراً منسوخ کرے اور اسے دوبارہ شائع کرنے اور لوگوں کے لئے اس سے استفادہ کرنے کی مکمل آزادی 35 کو بحال کرے۔“ ی جنوبی عرب کی فیڈ ریشن کے احمدی اراکین نے ضبطی کے حکم کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا:۔” برطانوی حکومت ( جو بلاشبہ ایک عیسائی حکومت تھی ) کے پچاس سالہ دور میں اور پاکستان کی سابقہ حکومتوں کے سولہ سالہ دور میں کبھی بھی اس قسم کی کوئی شکایت سننے میں نہیں آئی کہ اس کتاب کی وجہ سے مسلمانوں اور عیسائیوں میں منافرت پیدا ہو رہی ہے۔ایسا تو کبھی اُس وقت بھی سننے میں نہیں آیا جب عیسائیوں اور مسلمانوں میں باہم مقابلہ اپنی انتہاء کو پہنچا ہوا تھا۔اب یکا یک یہ کتاب اتنی خطر ناک کس طرح بن گئی کہ اسے ضبط کرنے کی نوبت آ گئی۔یہ ایک ایسی بات ہے کہ جو کسی عقلمند کی سمجھ میں نہیں آسکتی۔کتاب کی بلا وجہ منبطی پر ہم اپنے آپ کو بہت رنجیدہ اور غمزدہ محسوس کرتے ہیں۔پھر یہ بات ایک مسلمان حکومت کے لئے کتنی غیر دانشمندانہ نظر آتی ہے کہ وہ عیسائیت کے بالمقابل مسلمان مبلغین سے ان کا ایک مؤثر اور کارگر ہتھیار چھین کر انہیں غیر مسلح کر دے۔جب کہ یہ ایک جانی پہچانی حقیقت ہے کہ عیسائی حکومتیں بالواسطہ اور بلا واسطہ ہر طرح سے بڑھ چڑھ کر اپنے مشنریوں کی مدد کرتی ہیں۔“ 36